پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا جمعہ کو باضابطہ آغاز ہو گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا آغاز ہو گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا جمعہ کو باضابطہ آغاز ہو گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس میں 450 سے زائد کمپنیاں شریک ہیں جن میں 300 سے زائد پاکستانی اور 150 معروف چینی صنعتی ادارے شامل ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔
انہوں نے کہاکہ کانفرنس میں شریک چینی مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا دوسرا گھر ہے، برسوں سے ہم پاک چین دوستی کو ‘آہنی برادر’ کہتے آئے ہیں، حقیقی دوستی کا اظہار مشترکہ صنعتوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور زمین پر قائم ہونے والے کارخانوں سے ہوتا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ صحت، ڈریپ اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران مشترکہ طور پر مختلف کمپنیوں کے درمیان مطابقت اور سرمایہ کاری کے مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ دونوں ممالک کی صنعتوں کو مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے لئے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء ، جدید طبی آلات، ویکسین، بائیولوجکس اور دیگر جدید طبی مصنوعات شامل ہیں۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے 9 تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے گئے جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے منصوبے شامل ہیں۔ تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کے ساتھ ہماری ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور صحت کا شعبہ اس تعلق کا ایک اہم ستون ہے۔ چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان کی صحت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ کانفرنس صرف کاروباری معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی استعداد کی تعمیر اور خطے کے لئے ایک جدید صنعتی و برآمدی راہداری کے قیام کا ذریعہ ہے۔ کانفرنس کے دوران OBS اور CanSino Biologics کے درمیان 50 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ طے پایا جس کے تحت پاکستان میں PCV13 (Pneumococcal Conjugate Vaccine) کی مقامی تیاری کی جائے گی۔ AGP اور Shanghai United Cell Biotechnology (SUCB) کے درمیان 50 ملین امریکی ڈالر کے مشترکہ منصوبہ، جس میں گروتھ ہارمون، ٹیری پیراٹائیڈ اور اورل ہیضہ ویکسین کی مقامی تیاری شامل ہے، پربھی دستخط کئے گئے، OBS Pharma اور Liaoning Ludan Pharmaceutical کے درمیان 50 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے لیوونورجیسٹریل مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار حاصل ہو گی، Genix Pharma اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے 23 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بایوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا، جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز، انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔
Lab Diagnostic Systems (LDS) اور Chongqing LianXin ZhiKang Biotechnology کے درمیان 25 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ پر بھی دستخط کئے گئے جس کے تحت پاکستان میں Continuous Glucose Monitoring (CGM) مصنوعات کی مقامی تیاری اور اسمبلنگ کی جائے گی، LDS اور Sinovac Holding Group کے درمیان 200 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ، جو تقریب کا سب سے بڑا سرمایہ کاری منصوبہ ثابت ہوا، کے تحت ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کی جائے گی۔Citi Pharma اور Yangtze River Pharmaceutical Group کے درمیان 10 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ، جس کا مقصد منتخب APIs کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے، پر بھی دستخط کئے جبکہ طے پانے والے دیگر معاہدوں میں شامل Lucky Core Industries اور HuaHui Health (Hong Kong) کے درمیان 13 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ، جس کے ذریعے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج کی دوا Libevitug تک مریضوں کی رسائی بہتر بنائی جائے گی اور Weatherfolds Pharmaceuticals & Welcome Pakistan Pvt. Ltd اور Tian Yuan Pharmaceutical کے درمیان 25 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں پہلی مرتبہ Semaglutide اور Tirzepatide APIs اور ان کی تیار شدہ ادویات کی مقامی پیداوار کا منصوبہ قائم کیا جائے گا۔
تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔افتتاحی تقریب کے بعد کانفرنس کا پہلا منظم بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ مقام پر ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے سہولت مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری معاونت فراہم کی جا رہی ہے کانفرنس کے دوسرے روز ڈراپ عالمی معیار کے ضابطہ جاتی نظام، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور ICH معیارات سے ہم آہنگی، نیز Pakistan Single Window (PSW) کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کرے گا جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔








