ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن نے خواتین کیٹیگری میں شرکت کے لئے جینیاتی جنس کے ٹیسٹ لازمی قرار دے دیے

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے)نے ڈبلیو ٹی اے ٹور میں شرکت کے لئے تمام خاتون کھلاڑیوں کے لئے جینیاتی معائنے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

لندن۔21جولائی (اے پی پی):خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے)نے ڈبلیو ٹی اے ٹور میں شرکت کے لئے تمام خاتون کھلاڑیوں کے لئے جینیاتی معائنے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق 21 جولائی سے نافذ العمل ہونے والی نئی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کے چیک سواب، خون یا لعاب کے نمونے لیے جائیں گے تاکہ وائی کروموسوم کے ‘ایس آر وائی’ جینیاتی مادے کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے جو مردانہ خصوصیات کا باعث بنتا ہے۔ کھلاڑیوں کا یہ ٹیسٹ ان کی پوری زندگی میں صرف ایک بار کیا جائے گا اور صرف منفی نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں ہی انہیں ٹورنامنٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ مثبت نتیجہ آنے کی صورت میں طبی جائزہ لیا جائے گا۔ پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کو ایک دستاویز پر بھی دستخط کرنے ہوں گے جس کی رو سے ٹیسٹ سے انکار پر ان کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی جا سکے گی۔ اس سے قبل 2024 کی پالیسی میں خواجہ سرا خواتین کو ٹیسٹوسٹیرون کی سطح مسلسل دو سال تک مخصوص حد سے کم رکھنے پر کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ کے مطابق اس نئی پالیسی کا مقصد خواتین کو پیشہ ورانہ ٹینس میں مساوی مواقع فراہم کرنا اور تمام کھلاڑیوں کے لیے منصفانہ مقابلے کی فضا کو برقرار رکھنا ہے۔

مزید خبریں