نئے امریکی ٹیرف کا کوئی جواز نہیں، آسٹریلیا

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے جبری مشقت کے خلاف نافذ کیے جانے والے نئے ٹیرف کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ شنہوا کے مطابق یہ بات آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم رچرڈ مارلس نے گزشتہ روز آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

کینبرا۔24جولائی (اے پی پی):آسٹریلیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے جبری مشقت کے خلاف نافذ کیے جانے والے نئے ٹیرف کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ شنہوا کے مطابق یہ بات آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم رچرڈ مارلس نے گزشتہ روز آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے پر مایوس ہے جس کے تحت آسٹریلوی مصنوعات پر نیا ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں اس فیصلے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہم تجارت اور جبری مشقت کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں امریکی انتظامیہ سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر تجارت و سیاحت ڈان فیرل نے بھی ایک بیان میں امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا۔امریکا آزاد تجارتی معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذا اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت اور جدید غلامی کے خلاف آسٹریلیا کے اقدامات دنیا کے مضبوط ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں اور اس شعبے میں ہماری قیادت کو عالمی سطح پر حتیٰ کہ امریکا میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے جمعہ سے 60 ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ان ممالک کے خلاف کیا گیا ہے جن پر امریکا نے جبری مشقت کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت آسٹریلیا سے امریکا کو برآمد ہونے والی مصنوعات پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی، جو عارضی 10 فیصد ٹیرف کی جگہ لے گی۔

مزید خبریں