پاکستان نے بھارت کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر عمل درآمد ، اپنے معاہداتی وعدوں کی پاسداری اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے بامعنی اقدامات کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
بھارت مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے بامعنی اقدامات کرے،دریائے سندھ کا پانی 240 جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔24جولائی (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر عمل درآمد ، اپنے معاہداتی وعدوں کی پاسداری اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے بامعنی اقدامات کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے 15 رکنی سلامتی کونسل میں بھارتی مندوب ہریش پرواتھنینی کےبیان کے جواب میں کہی۔ بھارتی مندوب نے یواین سکیورٹی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے خطاب (جس میں انہوں نے قرارداد 2788 کا حوالہ دیا تھا اور اس تناظر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا) کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل پر توجہ د ےاور جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیا۔ پاکستانی قونصلر نے سلامتی کونسل میں بھارتی مندوب کے بیان کے ردعمل میں کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں عوام آزادی سے زندگی گزارتے ہیں، سیاسی عمل میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں جبکہ بھارت کےغیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں اختلافِ رائے کو دبایا جاتا ہے، ہزاروں افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تنازعے سے متعلق جنسی تشدد، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔ پاکستانی قونصلرنے کہا کہ جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور نہ ہی یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تردید نہ تاریخ بدل سکتی ہے، نہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت ختم کر سکتی ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے خلاف گزشتہ تقریباً8دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت خود یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا مگر آج بھی اس کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔ انہوں نے بھارتی مندوب سے کہا کہ میں آپ کو یہ یاد دلاتی ہوں کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔ صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے240 ملین عوام کے لیے زندگی کی علامت ہے اسے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے،بھارت کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کو صرف خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو سے لے کر شمالی امریکا میں بھارتی ایجنٹوں سے منسوب مبینہ قتل کی سازشوں اور ہلاکتوں تک بھارت کی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کا دائرہ علاقائی سطح سے بڑھ کر عالمی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا سے متاثر دائیں بازو کی آر ایس ایس۔ بی جے پی حکومت نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے جس کے نتیجے میں 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور مبینہ نسل کشی جیسے اقدامات کو معمول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائیوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، دلتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور سکھوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جسے انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی منافقت قرار دیا۔ قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے اور خطے میں تنازعات کے حل کے لیے پرامن راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی میں نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر عمل کرنے میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل درآمد کرے گا، اپنے بین الاقوامی معاہداتی وعدے پورے کرے گا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرے گا۔








