فلسطینی صدارتی دفتر نے اسرائیلی آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں زبر دستی داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
فلسطینی صدارتی دفتر کی اسرائیلی آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ میں دراندازی کی مذمت

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔24جولائی (اے پی پی):فلسطینی صدارتی دفتر نے اسرائیلی آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں زبر دستی داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
العربیہ اردو کے مطابق فلسطینی صدارتی دفتر نے بیان میں کہا ہےکہ اسرائیلی وزیر ایتامار بن گویر اور کنیسٹ کے رکن عامیت ہلیوی کی قیادت میں آبادکاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں، جو تاریخی اور قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ میں جاری اقدامات ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہیں، جو ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد مسجدِ اقصیٰ میں نئی زمینی حقیقت مسلط کرنا اور اسے زمانی و مکانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ فلسطینی صدارتی دفتر نے زور دے کر کہا کہ مسجدِ اقصیٰ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اسرائیلی قبضے کا نہ تو القدس شہر پر کوئی حقِ حاکمیت ہے اور نہ ہی اس کے مقدسات پر۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اسرائیل کو القدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام خلاف ورزیوں اور یکطرفہ اقدامات سے باز رکھنے کے لیے موثر اور سخت موقف اختیار کرے۔








