محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل آباد نے دودھ دینے والے جانوروں کی بہتر صحت، زیادہ دودھ کی پیداوار اور افزائشِ نسل کو یقینی بنانے کے لیے منرل مکسچر کے باقاعدہ استعمال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
مویشی پال حضرات جانوروں کو روزانہ 50 سے 100 گرام معیاری منرل مکسچر ضرور فراہم کریں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 24 جولائی (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ فیصل آباد نے دودھ دینے والے جانوروں کی بہتر صحت، زیادہ دودھ کی پیداوار اور افزائشِ نسل کو یقینی بنانے کے لیے منرل مکسچر کے باقاعدہ استعمال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ترجمان ڈاکٹر فرحین کے مطابق منرلز جانوروں کی جسمانی نشوونما، ہڈیوں کی مضبوطی، تولیدی صحت اور قوتِ مدافعت برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کی کمی سے دودھ کی پیداوار اور جانوروں کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے محکمہ کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کی خوراک میں کیلشیم، فاسفورس، میگنیشیم، زنک، کاپر اور سیلینیم جیسے ضروری منرلز مناسب مقدار میں شامل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ یہ منرلز جانوروں کی ہڈیوں، عضلات، اعصابی نظام، تولیدی صلاحیت اور جسمانی افعال کو درست انداز میں برقرار رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر جانوروں میں منرلز کی کمی ہو جائے تو دودھ کی پیداوار میں کمی، ہیٹ میں تاخیر، کمزوری، مٹی یا دیوار چاٹنے کی عادت اور دیگر غذائی مسائل سامنے آ سکتے ہیں، جس سے مویشی پال حضرات کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے مویشی پال حضرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ جانوروں کو روزانہ 50 سے 100 گرام معیاری منرل مکسچر ضرور فراہم کریں۔ اس کے ساتھ نمک کے بلاک بھی جانوروں کے باڑے میں رکھے جائیں تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق نمکیات حاصل کر سکیں۔ مزید برآں جانوروں کو ہر وقت صاف پانی اور متوازن خوراک مہیا کی جائے تاکہ ان کی صحت اور دودھ کی پیداوار بہتر رہے۔ انہوں نے مویشی پال افراد سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی رہنمائی یا مزید معلومات کے لیے اپنے قریبی ویٹرنری ہسپتال یا محکمہ لائیوسٹاک کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرسکتے ہیں۔







