سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کے دائرہ اختیار سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) مقدمات میں اپیلی دائرہ اختیار سے متعلق اہم تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد نیب مقدمات میں دوسری اپیل، ضمانت، سزا معطلی اور دیگر متعلقہ درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کو حاصل ہے

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) مقدمات میں اپیلی دائرہ اختیار سے متعلق اہم تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد نیب مقدمات میں دوسری اپیل، ضمانت، سزا معطلی اور دیگر متعلقہ درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کو حاصل ہے جبکہ سپریم کورٹ اب ایسے معاملات میں اپیلی فورم نہیں رہی۔جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن کے ہمراہ 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 ایف اور نیب آرڈیننس میں شامل نئے سیکشن 32 اے کو یکجا پڑھنے سے قانون ساز کی یہ نیت واضح ہوتی ہے کہ احتساب مقدمات میں اپیلی فورم کے طور پر وفاقی آئینی عدالت کو متعین کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ضمانت، سزا معطلی، نظرثانی اور دیگر عبوری نوعیت کی درخواستیں اصل اپیلی اختیار سے منسلک ضمنی اختیارات ہیں، اس لیے جب مرکزی اپیل سننے کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو گیا ہے تو سپریم کورٹ ان ضمنی معاملات میں بھی مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت کوئی بھی عدالت صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو آئین یا قانون اسے تفویض کرے۔ قانون میں واضح ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے لیے نیب مقدمات میں اپیلی اختیار برقرار رکھنا ممکن نہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اے کے تحت دوسری اپیل کا حق ایک مستقل اور قانونی حق ہے جو براہ راست وفاقی آئینی عدالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے محض طریقہ کار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک موثر قانونی حق تصور کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قانون متوازی اپیلی فورمز کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ سنے جبکہ اسی مقدمے کی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون ’’فورم شاپنگ‘‘ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور مقدمات کا فیصلہ صرف متعلقہ قانونی فورم ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ نیب مقدمات سے متعلق زیر التواء اپیلیں، ضمانت کی درخواستیں اور دیگر کارروائیاں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق وہاں نمٹایا جا سکے۔

مزید خبریں