طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں کے مختلف اضلاع میں جھڑپیں ، راکٹ حملے میں 7اہلکار ہلاک

طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آرہی ہے ،صوبہ بدخشاں کے مختلف اضلاع میں جھڑپیں ہوئیں ہیں اور صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آرہی ہے ،صوبہ بدخشاں کے مختلف اضلاع میں جھڑپیں ہوئیں ہیں اور صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ بدخشاں کےاضلاع یفتل اور زیباک میں ہونےوالی جھڑپوں نےطالبان رجیم کے افغانستان پرکنٹرول کےدعوؤں پرسوالات اٹھا دیئے ہیں، افغان طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے کابل سے بدخشاں جانے والے طالبان کے فوجی قافلے پرراکٹ حملہ کیا گیا ہے جس میں افغان طالبان کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور 7 اہلکار ہلاک اور6 شدید زخمی ہوگئے ہیں ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری افغانستان فریڈم فرنٹ کے بیان کے مطابق تنظیم کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک افغان طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت کا تعاقب کیا، افغان طالبان کا فوجی قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا ،اس سے قبل ہفتے کے روز بدخشان کے ضلع زیباک میں بھی تنظیم کے جنگجوؤں نے افغان طالبان کے دو فوجی ڈرونز مار گرائے تھے ، جمعہ کو بھی جنگجوؤں نے افغان طالبان کےہیلی کاپٹروں کو ضلع زیباک میں اترنے کے بجائے واپس جانے پر مجبور کردیاتھا ۔ معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق فریڈم فرنٹ کی مسلسل کارروائیاں اور ڈرون حملے ان کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیت، منصوبہ بندی، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور تیاری کا ثبوت ہیں۔ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے مطابق افغان طالبان رجیم جائز حکومت نہیں، اس کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہوگی، جو بالآخر طالبان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بنے گی۔