انسانی سمگلنگ نہ صرف بین الاقوامی جرم بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین اور منظم خلاف ورزی ہے، یہ ایسا عالمی ناسور ہے جو سرحدوں کی قید سے ماورا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر پیغام

انسانی سمگلنگ نہ صرف بین الاقوامی جرم بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین اور منظم خلاف ورزی ہے، یہ ایسا عالمی ناسور ہے جو سرحدوں کی قید سے ماورا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ کو نہ صرف ایک بین الاقوامی جرم بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین اور منظم خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ایسا عالمی ناسور ہے جو سرحدوں کی قید سے ماورا ہے۔ انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن جو آج (جمعرات) کو منایا جا رہا ہے، کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن اس تجدید عہد کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ اس عالمی جرم کے انسداد کے لیے مشترکہ کاوشیں پر عزم انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ محض ایک بین الاقوامی جرم ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین اور منظم خلاف ورزیوں میں شامل ہے، یہ ایک ایسا عالمی ناسور ہے جو سرحدوں کی قید سے ماورا ہے اور معاشرتی محرومیوں اور انسانی کمزوریوں کا استحصال کرتا ہے۔انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ فعل کا مقابلہ قومی اور عالمی سطح پر متحد، غیر متزلزل اور موثر حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اس جرم کے مکمل سد باب کے لیے ہمہ جہت منصوبہ بندی اور قانونی، سماجی، انتظامی حکومتی اور انفرادی سطح کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ دیگر منظم جرائم بشمول غیر قانونی تارکین وطن، جعلی سفری دستاویزات، منی لانڈرنگ اور جبری مشقت سے مربوط تعلق رکھتا ہے۔ اس پیچیدہ نوعیت کے جرم کی وجوہات کے تدارک کے لیے تمام متعلقہ قومی اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے قومی سطح پر سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے تناظر میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص وفاقی تحقیقاتی ادارے کے لیے جرم سر زد ہونے سے پہلے بروقت و پیشگی روک تھام کے لیے خصوصی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ علاوہ ازیں انسداد انسانی سمگلنگ میں مشترکہ کاوشوں کی قومی اور عالمی سطح پر ہم آہنگی کے لیے صوبائی حکومتوں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں بشمول انٹرپول، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم اور دیگر ممالک کی متعلقہ اداروں سے بامعنی مشاورت جاری ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف آئی اے کے انسداد انسانی سمگلنگ یونٹس کو متاثرین کے ساتھ ہمدردانہ اور باوقار طرز عمل اختیار کرنے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاہم انسانی سمگلنگ جیسے جرم کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات کے علاوہ ہر شہری کے تعاون، بیداری اور احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس عالمی دن کے موقع پر ہر پاکستانی سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ انسانی سمگلنگ میں شامل عناصر کی نشاندہی میں مستعدی کا مظاہرہ کریں اور محروم طبقات پر بھی توجہ رکھیں تاکہ وہ استحصالی عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہری ذمہ داری یہ تقاضا کرتی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع ایف آئی اے کی ہیلپ لائنز یا متعلقہ پورٹلز پر دی جائے تاکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بروقت اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس لعنت کے متاثرین مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہیں جنہیں حکومتی اور سماجی تحفظ، ہمدردی، نفسیاتی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کی ضرورت ہے۔ حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ ریاستی ادارے انہیں وہ قانونی تحفظ، نفسیاتی مدد اور بحالی کی سہولیات فراہم کرے جن کی مدد سے وہ ایک باوقار زندگی کا دوبارہ آغاز کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے! عزم صمیم اور اجتماعی کاوشوں کے ساتھ ہم ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں انسانی سمگلنگ جیسے جرائم کا انسداد ہو سکے اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے وافر مواقع موجود ہوں۔