کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج کے مقام اسپین کاریز میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث اچانک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے مزید مزدوروں کی تلاش اور انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
اسپین کاریز ، کوئلہ کان میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 34 ہو گئی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 31 جولائی (اے پی پی):کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج کے مقام اسپین کاریز میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث اچانک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے مزید مزدوروں کی تلاش اور انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سورینج میں پیش آنے والے کوئلہ کان حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں میں ریسکیو ٹیموں نے اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی ہیں۔ حادثے کے بعد متاثرہ کان میں مزید کان کنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جن کی تلاش کے لیے امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔حکام کے مطابق کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ منہدم ہوگیا اور متعدد کان کن ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے، ریسکیو، محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ریسکیو ٹیموں کی جانب سے بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی مدد سے کان کے اندر ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے کان کنوں تک رسائی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی اہلکار انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں متاثرہ کان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ باقی ماندہ کان کنوں کو جلد از جلد تلاش کرکے باہر نکالا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کو تمام متاثرہ کان کنوں کو کان سے نکالے جانے تک جاری رکھا جائے گا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران کان کے اندر موجود زہریلی گیس اور دیگر خطرات کے باعث ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے سورینج کوئلہ کان حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیوں میں مزید تیزی لانے اور متاثرہ کان کنوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد جاں بحق کان کنوں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو بھی صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں کان میں پھنسے باقی کان کنوں کی تلاش کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہیں اور امدادی کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔








