ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سیف انور جپہ نے شیخوپورہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، پٹھان کالونی فیروزوالہ اور مریدکے کا دورہ کیا اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں جاری ریسکیو و امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
سیف انور جپہ کا شیخوپورہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ،ریسکیو و امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا

مزید خبریں
لاہور۔31جولائی (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سیف انور جپہ نے شیخوپورہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، پٹھان کالونی فیروزوالہ اور مریدکے کا دورہ کیا اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں جاری ریسکیو و امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
ترجمان کےمطابق متعلقہ حکام نے اس موقع پر ڈی جی کو ریسکیو سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ نالہ بھیڈ اور ڈیک میں طغیانی کے باعث 58 دیہات زیر آب آئے جبکہ 83 موضع جات اور 43 ہزار 188 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا۔ سیلاب سے مجموعی طور پر ایک ہزار 215 گھروں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایات پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ کلینک آن ویلز، ستھرا پنجاب اور صاف پانی اتھارٹی کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور شہریوں کو صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔سیف انور جپہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کی سہولت کے لیے 13 فلڈ ریلیف کیمپ اور 7 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
اب تک 738 افراد اور 46 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں میں 11 ہزار 300 پکے ہوئے کھانے کے باکس اور 4 ہزار 85 راشن بیگز تقسیم کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لائیو سٹاک سپورٹ پروگرام کے تحت 215 من سبز چارہ، 20 من توڑی اور 415 بیگز ونڈہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں میں موجود شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوری طور پر فلڈ ریلیف کیمپوں یا محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کو بندوں کی مرمت، نکاسی آب اور امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔








