گزشتہ سال بینک فراڈ سے متعلقہ شکایات میں 10.64 فیصد اضافہ ہوا ،مصنوعی ذہانت کے ذریعے مالیاتی سائبر حملوں میں نمایاں کمی ممکن ہے ، ماہرین

گذشتہ سال کے دوران بینک فراڈ سے متعلقہ شکایات میں 10.64 فیصد کا اضافہ ہوا اور دوران سال بینکنگ محتسب پاکستان کے پاس 4615 شکایات درج کرائی گئیں ۔

اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):گذشتہ سال کے دوران بینک فراڈ سے متعلقہ شکایات میں 10.64 فیصد کا اضافہ ہوا اور دوران سال بینکنگ محتسب پاکستان کے پاس 4615 شکایات درج کرائی گئیں ۔

مالیات کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ صارفین اوربینکاری کی صنعت کو مالی نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے بروقت تدارک کیلئے مصنوعی ذہانت کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ بینکنگ محتسب پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق ریگولیٹر اور مالیاتی اداروں کی جانب سے مختلف حفاظتی اقدامات کے باوجود بینکنگ فراڈز میں اضافہ کا رجحان ہے ، رپورٹ کےمطابق 2025 کے دوران 2024 کے مقابلہ میں مالیاتی فراڈکے حوالے سے درج شکایات میں 10.64 فیصد کا اضافہ ہوا اور سال 2025 میں مجموعی طور پر 4615 شکایات درج کرائی گئیں جبکہ سال 2024 میں بیکنگ محتسب کے پاس 4171 شکایات درج ہوئیں تھی ۔ اس طرح 2024 کے مقابلہ میں 2025 کے دوران بیکنگ محتسب کے پاس درج کرائی گئی شکایات میں 10.64 فیصد یعنی 444 شکایات کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

اعدادوشمار کے مطابق 2023 کے مقابلہ 2024 کے دوران بینکنگ محتسب کے پاس مالیاتی فراڈ کے حوالہ سے درج کرائی گئی شکایات میں 19.54 فیصد یعنی 682 شکایات کا اضافہ ہوا ۔ واضح رہے کہ 2023 میں بینکنگ محتسب کے پاس 3489 شکایات درج ہوئی تھیں جبکہ 2024 میں درج شکایات کی تعداد 4171 تک پہنچ گئیں جو سائبر کرائمز کے حوالے سے ایک خطرناک رجحان کی عکاسی ہے ۔مالیات کے شعبہ کے ماہر عثمان حنیف نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں مالیات تک آسان رسائی کےساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے فنانشل انکلویژن انڈیکس(پی ۔ایف آئی آئی ) کے مطابق سال 2023 میں پی ۔ایف آئی آئی کی شرح54.8 فیصد سے سال 2025 میں 58.1 فیصد تک بڑھ گئی جو روایتی اورڈیجیٹل مالیات کی خدمات کے استعمال میں اضافہ رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بالغ آبادی کے 68 فیصد مساوی افراد اپنے اکائونٹس رکھتے ہیں جس کا سبب ڈیجیٹل بینکنگ ، موبائل ویلٹس اور مختلف ادائیگوں کے نظام کے حوالے سے دستیاب بینکنگ کی خدمات تک آسان رسائی ہے ۔

عثمان حنیف نے کہا کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ اور کاروبار ڈیجیٹل فنانس پر منتقل ہوچکا ہے جس کیلئے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی اور استحکام ضروری ہے تاکہ سائبر حملوں ، مالیاتی فراڈز اور ڈیٹا کے نقصان سمیت ادائیگوں کے نظام کی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی نیشنل فنانشل انکلویژن سٹرٹیجی 28-2024 کے تحت معیاری مالیاتی خدمات اولین ترجیح ہے ۔ جس کیلئے سائبر سکیورٹی فریم ورکس ، صارفین کا بھرپور تحفظ اور دیگر مشترکہ اقدمات کویقینی بنایا جائیگا ۔ رپورٹ کے مطابق جامع حکمت عملی کےتحت مالیات کے شعبہ اور صارفین کا تحفظ ناگزیر ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مالیات کے شعبہ کی ڈیجیٹائزیشن کی رفتار میں اضافہ کے نتیجہ میں بینکاری کی خدمات تیز اور آسان ہونےکے ساتھ ساتھ ان کادائرہ کار بھی وسیع ہوا ہےتاہم اس سے صارفین اور شعبہ کو درپیش سائبر حملوں کی تعداد بھی بڑھی ہے ، جن میں شناخت کی چوری ، ادائیگیوں کا فراڈ اور اکائونٹس کے ہیک کئے جانے سمیت دیگر خطرات شامل ہیں ۔ عثمان حنیف نے تجویز پیش کی کہ مالیاتی ادارے مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر فراڈ کا پتہ لگانے کے نظام سے استعادہ کریں تاکہ شعبہ کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

اس حوالے سے قانون نافذکرنے والے اداروں کے درمیان قریبی اشتراک کار بھی ضروری ہے جس سے سائبر حملوں کی شرح کو کم کیاجاسکتا ہے ۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی )کے شعبہ کے ماہر محمد ولید نے کہا کہ اے آئی ایپلیکیشنز سے نہ صرف آپریشنل کار کردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ مالیاتی فراڈز کو بروقت شناخت کرنا اور ان کا تدارک بھی ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بینکس اےآئی ایڈوانس ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کریں جس سے وہ فراڈ کی شناخت اور اس کے خاتمے کے قابل ہو سکے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پر مشتمل مانیٹرنگ سسٹمز سے سپیڈاور درستگی کو یقینی بنانےمیں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹمز تھوڑے سے وقت میں کروڑوں کی تعداد میں ٹرانزیکشنز کا جائزہ لےسکتے ہیں اور ان میں سے غیر معمولی روئیوں کی شناخت کرنے اور فراڈ پرمبنی کارروائیوں کو روکنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتےہیں۔

مزید خبریں