امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم حملہ روک دیں، کیونکہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے کا منصوبہ موخر کر دیا ، امریکی صدر

مزید خبریں
واشنگٹن ۔2اگست (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم حملہ روک دیں، کیونکہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس درخواست کی بنیاد پر دنیا کے بہتر مستقبل اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کی بقا کے پیشِ نظر میں نے تیزی سے معاہدہ طے پانے کی شرط پر مجوزہ حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس عزم میں اسرائیل بھی ہمارے ساتھ شامل ہے۔ اب سب کام پر لگ جائیں اور اس معاہدے کو مکمل کریں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو انتہائی سخت حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کو بہت بری طرح نشانہ بنائے گا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہداف پر فوری طور پر نئے بڑے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم کُچھ دیر قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب سے رابطوں کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی جس میں اُن کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ ایران، امریکایا اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ساتھ ہی ترکی کی جانب سے بھی مذاکرات اور خطے میں دیرپا امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔








