پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے حقیقی کامیابی صرف ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں بلکہ اسے تیار کرنے، اپنانے اور موثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگی۔
پاکستان کو تحقیق، مہارت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق
لاہور۔2اگست (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے حقیقی کامیابی صرف ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں بلکہ اسے تیار کرنے، اپنانے اور موثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگی۔
اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے افتتاح پر چینی صدر شی جن پنگ کے اس اعلان کو سراہا جس میں چین نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدت، اطلاق اور گورننس کے فروغ کے لیے تعاون کا عزم ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کو اے آئی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، افرادی قوت کی تربیت اور تحقیق کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان کو چین اور ورلڈ اے آئی کانفرنس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تحقیق، افرادی قوت کی استعداد بڑھانے، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے، جبکہ عالمی سطح پر ایسی اے آئی گورننس کی حمایت کرنی چاہیے جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات اور حقائق کی عکاسی کرے۔









