پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کے حقِ رائے دہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، میرواعظ عمرفاروق

کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پرلائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کی جارہی ہے،حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہےجسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،کشمیری مہاجرین کے حقوق جموں و کشمیر کے …

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پرلائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کی جارہی ہے،حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہےجسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،کشمیری مہاجرین کے حقوق جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور یہ مساوی احترام اور تحفظ کے مستحق ہیں۔

میر واعظ عمرفاروق نے کہا کہ ہماری جدوجہد کی کامیابی جموں وکشمیر کے ہرعلاقے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے،ایک طبقے کے حقوق کی خاطر دوسرے کے آئینی و جمہوری حقوق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہے۔

حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے زور دیا کہ اس معاملے سے متعلق تمام فریقین مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے بات چیت کریں اور ایک متوازن، مقبول اور قابلِ قبول حل تلاش کریں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ میر واعظ عمر فاروق کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔