بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی، عالمی پابندیوں کے باوجود روس سے روابط مودی کیلئے نیا امتحان، الجزیرہ

خلیجی جنگ اور امریکی تجارتی دباؤ کے سامنے مودی سرکار کی توانائی پالیسی سخت مشکلات کا شکار ہے،عالمی منظرنامے میں تبدیلیوں کے درمیان مودی کی غیر متوازن خارجہ پالیسی بھارتی عوام کیلئے کڑی آزمائش بن گئی ہے۔ عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق امریکی سینیٹ میں منظور ہونے والے بل میں بھارت کیلئے ٹیرف 100 فیصد تک بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا ۔

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):خلیجی جنگ اور امریکی تجارتی دباؤ کے سامنے مودی سرکار کی توانائی پالیسی سخت مشکلات کا شکار ہے،عالمی منظرنامے میں تبدیلیوں کے درمیان مودی کی غیر متوازن خارجہ پالیسی بھارتی عوام کیلئے کڑی آزمائش بن گئی ہے۔ عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق امریکی سینیٹ میں منظور ہونے والے بل میں بھارت کیلئے ٹیرف 100 فیصد تک بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا ۔

عالمی پابندی کے باوجود روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہونے کے باعث بھارت امریکی بل کی زد میں آ گیا۔مودی حکومت توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرے کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال کا کہنا ہے کہ مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکی بل کی زد میں بھارت سب سے نمایاں ملک ہے۔

بھارتی جریدہ وی آن نیوزکے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی روسی تیل کی درآمد کو بھارت کیلئے نقصان دہ ہونے کی تائید کر دی ۔بھارتی توانائی اور تیل و گیس کے ماہر کیرت پاریکھ کے مطابق بھارتی روپے پر شدید دباؤ سے مہنگائی میں نمایاں اضافے ہونے کا خدشہ پہلے ہی بھارتی عوام کے سر پر منڈلا رہا ہے۔