افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت تیز،رجیم کےافغانستان پرکنٹرول کے دعوے جھوٹے ثابت،امریکی تھنک ٹینک لانگ وارجرنل

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کے تابڑتوڑحملوں اور اندرونی اختلافات نے رجیم کے کنٹرول کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے،امریکی تھنک ٹینک لانگ وارجرنل نے افغان طالبان کیخلاف مزاحمتی گروہوں کی حالیہ کارروائیاں کی تفصیلات سامنے لے آیا۔

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کے تابڑتوڑحملوں اور اندرونی اختلافات نے رجیم کے کنٹرول کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے،امریکی تھنک ٹینک لانگ وارجرنل نے افغان طالبان کیخلاف مزاحمتی گروہوں کی حالیہ کارروائیاں کی تفصیلات سامنے لے آیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان کے صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا،17 جولائی کو طالبان مخالف گروہ سپاہیانِ میہن نے ضلع یفتلِ سفلی کے مرکز پر حملہ کیا اورکئی گھنٹےضلعی مرکز پر قبضہ برقرار رکھا۔

امریکی تھنک ٹینک نے مزید کہا ہے کہ 23جولائی کو افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشان کےضلع زیبک میں طالبان یونٹس کیخلاف متعدد ہدفی کارروائیاں کیں۔ افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے لانگ وار جرنل کو بتایا کہ افغان فریڈم فرنٹ گوریلا جنگ کے بجائے اب طالبان کیخلاف براہِ راست جنگ میں داخل ہو چکا ہے،23جولائی کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ضلع کران ومنجان میں طالبان کی چوکی پر حملہ کی جس میں ایک طالبان جنگجو ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

افغان صحافی ابومسلم شیرزاد کے مطابقبدخشاں میں طالبان اوران کے حامیوں کے لیے اپنی گرفت برقراررکھنا اب آسان نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کیساتھ حالیہ دنوں میں مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے ۔