"دو سے 4 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔”
دو سے 4 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ کا امکان

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):قدرت آفات سے نمٹنے کے قومی ادارہ (این ڈی ایم اے )کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 2 تا 4 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ کا امکان ظاہر کیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کے مطابق دریائے لہڑی میں ہیڈ گوگی کے مقام پراونچے درجے کا سیلاب جبکہ وزیرآباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، گدو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ دریائے ناری ہیڈ ناری پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے چناب کے مرالہ مقام پر اونچے درجے جبکہ خانکی اور قادرآباد پر نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان کے معاون دریاؤں میں بھی نچلے سے درمیانے درجے کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔جہلم، چناب اور راوی سے ملحقہ ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ راوی اور ستلج میں پانی کی صورتحال بھارتی آبی ذخائر سے اخراج پر بھی منحصر ہوگی۔ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، وسطی و جنوبی خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان کے ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر نشیبی شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور بارش کے پانی کے جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔عوام کو ممکنہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔ سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ”سے بروقت معلومات حاصل کریں۔








