"وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مجموعی طور پر پُرامن رہا، معمولی تکرار کو قائم مقام صدر پر قاتلانہ حملے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، جبکہ مشتاق شاہ کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔”
آزادکشمیر میں انتخابی عمل پرامن ہوا،معمولی تکرار کو قائم مقام صدر پر قاتلانہ حملے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی،مشتاق شاہ کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا،وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی وزراء رانا ثناءاللہ اور انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ دوسرے مرحلہ میں آزادکشمیر میں انتخابی عمل پرامن ماحول میں منعقد ہوا،معمولی تکرار کو قائمقام صدر پر قاتلانہ حملے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی،ووٹ ڈالنے آئے ووٹرمشتاق شاہ کا انتقال مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے ہوا،سندھ سے رکن قومی اسمبلی سندھ پولیس کے ساتھ کھاوڑہ میں مختلف پولنگ سٹیشنوں پر اثرانداز ہورہے تھے جہاں پر مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور ان کے گارڈز نے فائرنگ کی جس کے جواب میں مقامی لوگوں نے بھی فائرنگ کی،ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی،بلاول بھٹو زرداری کو مس گائیڈ کیا گیاہے۔
اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے وزیر اعظم رانا ثناءاللہ نے کہا کہ آزادکشمیر میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ بھی کیاگیا،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولنگ سٹیشنوں پر گنتی جاری ہے،تمام حلقوں میں سارا دن پرامن حق رائے دہی استعمال کیاگیا ، بدقسمتی سے ایک جمہوری جماعت جس نے میثاق جمہوریت پر دستخط کررکھے ہیں، اس نے صبح 10 بجے سے دھاندلی کے الزامات شروع کردیئے،تسلسل سے وہ اس کا واویلا کرتے رہے،ہم نے دانستہ جواب نہیں دیا۔یہ مرحلہ آزادکشمیر کی تاریخ کا پرامن الیکشن تھا، 9 بجے کے بعد انہوں نے الزام تراشی شروع کردی۔پہلے 13 نشستوں پر دھاندلی کی بات کی پھر 4 اور آخر میں دو پر آگئے۔11 نشستوں پر پولنگ درست مان لی۔جن دو حلقوں میں دھاندلی کا کہا گیا وہ جواز یہ دیا گیا کہ وہاں کے ن لیگی امیدواروں نے زیادہ ووٹ لئے۔وہاں پر اکثر حلقہ جات میں ایک ہی برادری کے لوگ رہتے ہیں جو متفقہ فیصلہ کرکے ووٹ دیتے ہیں۔ان کے امیدواروں نے اپنے حلقہ میں 99 فیصد ووٹ ڈالے۔ہم نے اس کی فرانزک کروانے کی پیش کش کی ہے۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اب دوسرے مرحلہ میں پھر دھاندلی کا واویلا کیا گیا پورے دن میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر شکایت آئی۔قائم مقام صدر اپنے پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے گئے ان کے کیس چل رہے ہیں وہاں پر توتکار ہوئی،یہ صبح سے اسے حملہ قراردے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشتاق شاہ نامی شخص جاں بحق ہوا،یہ پی پی کا کارکن بھی نہیں تھا،آپس میں تصادم میں بھانجے کے دھکا دینے پر گرے اور ان کے رشتے داروں کے مطابق گھر آکر انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور انہوں نے قتل کا الزام لگادیا ۔انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں اسلحہ دیکھا گیا تاہم یہاں پر کہیں کوئی اسلحہ کی نمائش نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو ہمارے اتحادی لیڈر ہیں ان کو ان کے لوگوں نے غلط باتیں بتائی ہیں۔وہ اپنے اس امیدوار سے پوچھیں کہ اس نے اپنے پولنگ سٹیشن پر 99 فیصد ووٹ ڈال کر آپ کو بتایا کہ میرے مخالف امیدوار نے سارے ووٹ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ 8 نشستوں پر پرامن پولنگ ہوئی ہے کہیں کوئی امن وامان میں خلل کا واقعہ نہیں ہوا۔معمولی واقعات ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ایل اے 31 کھاوڑہ میں ایم این اے صلاح الدین جونیجو کے ساتھ سندھ پولیس کے کمانڈو دستے تھے یہ پولنگ سٹیشن کے اندر داخل ہوگئے،لوگوں کو دبانے کی کوشش کی تیسرے پولنگ سٹیشن پر لوگوں نے مزاحمت کی ان کے گن مینوں نے فائرنگ کی۔اس کے جواب میں مبینہ طور پر دوسری سمت سے بھی فائرنگ ہوئی،ان کے زخمی ہونے کی غیر مصدقہ بات ہورہی ہے۔یہ سندھ کے ایم این اے سندھ پولیس لے کر پولنگ سٹیشن پر کیا کرنے گئے تھے۔بلاول بھٹو اس کا نوٹس لیں،ہم نے اپنے ایم این ایز کو پولنگ کیمپ سے آگے جانے پر پابند کیا تھا۔انہوں نے کہا جھوٹ پر مبنی گفتگو سے قومی مفاد پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی اس پر ان کی پکڑ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ٹرن آئوٹ 50 فیصد تک ہونے کی توقع ہے،ایکشن کمیٹی کے مظفرآباد دو جگہوں پر دھرنا دیا احتجاج کیا وہ بھی اڑھائی بجے اٹھ گئےاس سے شہر میں خوف وہراس تھا۔تاہم پورے مظفرآباد شہر میں پولنگ ہوئی،ٹرن آئوٹ بہتر رہا۔انہوں نے کہا کہ مظفرآباد ڈویژن کے متوقع نتائج سے بھی ہم نے آگاہ کردیا ہے۔امیرمقام نے کہا کہ آزادکشمیر میں حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے،وہ ہم پر کیسے الزام لگا سکتی ہے۔ان کے دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں،ہم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کئے،انہوں نے اپنے تحفظات بتائے۔ہم سیاسی لوگ ہیں ہم نے بات چیت کی۔دوسرے مرحلہ میں ووٹنگ کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہوا ہے۔








