بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر آن لائن تربیتی نشست

"بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت پر منعقدہ آن لائن تربیتی نشست میں طلبہ نے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔”

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت پر منعقدہ آن لائن تربیتی نشست میں طلبہ نے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

ورکشاپ کے لیے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کرائی جبکہ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 116 طلبہ نے براہ راست آن لائن نشست میں شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے شرکا کو گوگل ڈویلپر گروپس اور جامعہ میں قائم گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان پلیٹ فارمز سے فعال طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، جدید منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کریں، پیشہ ورانہ روابط کو وسعت دیں اور صنعت کے جدید تقاضوں سے آگاہی حاصل کریں۔ نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین تشخیص اور مریضوں کی بہتر نگہداشت میں جبکہ رسد اور ترسیل کے شعبے سے وابستہ افراد انتظامی امور کو زیادہ موثر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاہم اہم اور حکمت عملی پر مبنی فیصلوں میں انسانی نگرانی ناگزیر ہے۔ورکشاپ کے اختتام پر طلبہ ترقی و تقرری مرکز کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی نشست سے طلبہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال سے متعلق مفید معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے گوگل کے ساتھ مستقبل میں مزید آن لائن اور کیمپس میں تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی امید بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں جامعہ کے طلبہ کو عالمی روزگار کی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، جدت طرازی کو فروغ دینے، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور طلبہ کی ڈیجیٹل و پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہیں۔