"شمالی کوریا نے کہا ہے کہ سائبر معاملات کو سیاسی دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔”
سائبر معاملات کو سیاسی دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو ہرگز قبول نہیں کریں گے،شمالی کوریا

مزید خبریں
پیانگ یانگ۔4اگست (اے پی پی):شمالی کوریا نے ملک کی سائبر سرگرمیوں سے متعلق امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حالیہ انتباہات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد شمالی کوریا کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور خودمختار ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کا جواز پیدا کرنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکا کی قیادت میں جاری کیے گئے مشترکہ سائبر انتباہ کو سیاسی الزام تراشی قرار دیتے ہوئے ملٹی لیٹرل سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (MSMT) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی سائبر صلاحیتوں کا حامل امریکا دوسرے ممالک پر سائبر خطرات کے الزامات لگا رہا ہے، جو غیر منطقی ہے۔ شمالی کوریا کے ترجمان نے امریکا پر سائبر جنگی صلاحیتوں میں اضافہ اور اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ سائبر مشقوں کے ذریعے سائبر سپیس کو عسکری بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا سائبر معاملات کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان امریکا، جنوبی کوریا، جاپان اور 8 دیگر ممالک کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے مشترکہ انتباہ کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا سے وابستہ آئی ٹی کارکن جعلی شناختوں کے ذریعے دور سے ملازمتیں حاصل کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی آمدنی شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ مشترکہ انتباہ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ کارکن مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور بعض صورتوں میں کمپنیوں کے لیے اندرونی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان پر ڈیٹا چوری، کرپٹو کرنسی کی چوری اور حساس معلومات حاصل کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔








