پاکستان کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، سردار مسعود خان ،جنرل (ر) زبیر محمود حیات اور دیگر مقررین کا آئی ایس ایس آئی کے زیر اہتمام کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب
پاکستان کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، سردار مسعود خان ،جنرل (ر) زبیر محمود حیات اور دیگر مقررین کا آئی ایس ایس آئی کے زیر اہتمام کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان ،جنرل (ر) زبیر محمود حیات اور دیگر مقررین نے کہا ہے کہ ہائبرڈ وارفیئر اب محض ایک نظریاتی تصور نہیں بلکہ جدید تنازعات کا عملی اور موثر ذریعہ بن چکی ہے، پاکستان کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) کے زیر اہتمام ممتاز محقق ڈاکٹر محمد علی کی کتاب ’’انڈیاز ہائیبرڈ وارفیئر: امپلیکیشنز فار پاکستانز نیشنل سکیورٹی ‘‘(India’s Hybrid Warfare: Implications for Pakistan’s National Security) کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
تقریب میں میجر جنرل (ر) ڈاکٹر احسان محمود خان، پروفیسر ڈاکٹر طغرل یامین، ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ، آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق، ملک قاسم مصطفیٰ اور سفیر خالد محمود سمیت دفاعی و سفارتی ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔ مہمان خصوصی سردار مسعود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ہائبرڈ وارفیئر کے نظریاتی تصور کا ایک اہم علمی جائزہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ جنگ کوئی نیا تصور نہیں بلکہ اس نوعیت کی حکمت عملیاں قرون وسطیٰ سے مختلف شکلوں میں موجود رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے اور پاکستان کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز سے بھی نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کتاب کو بروقت تصنیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں نمایاں تبدیلی ڈوول ڈاکٹرائن کے بعد آئی جس میں سول سوسائٹی کو ایک نئی محاذ آرائی کا میدان قرار دیا گیا اور پاکستان کے خلاف جارحانہ و دفاعی اقدامات کی وکالت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ وارفیئر اب محض ایک نظریاتی تصور نہیں بلکہ جدید تنازعات کا عملی اور موثر ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی قوم کے اعتماد اور قومی شناخت کو کمزور کر دیا جائے تو روایتی جنگ کے بغیر بھی اسے نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ یہ کتاب بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ معین الحق نے کہا کہ جدید جنگیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہو چکی ہیں، ہائبرڈ وارفیئر کا مقصد باضابطہ جنگ چھیڑے بغیر سٹریٹجک اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں پاکستان کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے قابل عمل سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ ملک قاسم مصطفیٰ نے ڈاکٹر محمد علی کی تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ کتاب میں پاکستان کے خلاف بھارت کی ہائبرڈ جنگ کا شواہد کی بنیاد پر تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی، مضبوط ادارہ جاتی تعاون، قومی ہم آہنگی، موثر طرز حکمرانی اور میڈیا کی مضبوطی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
میجر جنرل (ر)ڈاکٹر احسان محمود خان نے کہا کہ اگرچہ روایتی جنگ کی اہمیت برقرار ہے تاہم اب اس کے ساتھ سائبر، معاشی اور نفسیاتی جنگ جیسے نئے محاذ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طغرل یامین نے زور دیا کہ پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نمٹنے کے لیے جامع قومی حکمت عملی تشکیل دے۔ڈاکٹر اسماء شاکر خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ علم اور تحقیق معاشروں کو مضبوط بنانے اور ذہنی تعصبات و گمراہ کن معلومات کا موثر مقابلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تحقیقی تصنیف کو بروقت اور موضوع کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر سفیر خالد محمود نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سفارتی دبائو، غلط معلومات اور بیانیے کی تشکیل کے ذریعے پاکستان کے عالمی تشخص کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی فعالیت اور ادارہ جاتی مضبوطی نے ان چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا ہے۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد علی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق طالب علم ہیں جہاں انہوں نے پبلک پالیسی اور سٹریٹجک سکیورٹی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے 2024ء میں پی ایچ ڈی مکمل کی جبکہ برطانیہ، چین اور سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں تحقیق اور تدریس کے تجربے نے انہیں عالمی دفاعی اور سلامتی کے امور پر وسیع نقطہ نظر فراہم کیا۔








