پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان گرین انرجی منتقلی کے فروغ کے لئے سٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن پروگرام کا آغاز، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

"پاکستان اور ڈنمارک نے سٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن پروگرام کے آغاز کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن پروگرام کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔”

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):پاکستان اور ڈنمارک نے سٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (ایس ایس سی) پروگرام کے آغاز کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے جس کے ساتھ ہی سٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن پروگرام کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان جبکہ ڈنمارک کی جانب سے پاکستان میں تعینات ڈنمارک کی سفیر ماجا ڈیروس مورٹینسن نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ وفاقی وزیرِ توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری نے بھی دستخطی تقریب میں شرکت کی۔ توانائی کے شعبے میں جی ٹو جی کی بنیاد پر قائم یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس کے تحت ڈنمارک کے ماہرین پاکستانی وفاقی توانائی اداروں کو تکنیکی معاونت فراہم کریں گے تاکہ پاکستان میں گرین انرجی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ایس ایس سی پر عملدرآمد ڈنمارک کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، توانائی و یوٹیلیٹیز کے تحت کام کرنے والی ڈینش انرجی ایجنسی، اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے اور پاکستان کی وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت تکنیکی معاونت، ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافہ، معلومات اور تجربات کے تبادلے اور آگاہی کے فروغ کے ذریعے پاکستان کے توانائی شعبے میں کم کاربن ترقی کی راہ ہموار کی جائے گی جبکہ قومی سطح پر متعین موسمیاتی اہداف (این ڈی سی) کے مؤثر، کم لاگت نفاذ اور ان کے مزید فروغ میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت ڈنمارک کے ماہرین تین بنیادی شعبوں میں خصوصی تکنیکی معاونت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لئے تعاون فراہم کریں گے جن میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی کا قومی گرڈ میں مؤثر انضمام اور صنعتی شعبے میں توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کے توانائی شعبے کے اہم اداروں، بشمول انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر ، نیشنل گرڈ کمپنی، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کی تکنیکی صلاحیتوں، ادارہ جاتی استعداد اور پیشہ وارانہ مہارت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ سٹریٹجک تعاون ڈینش انرجی ٹرانزیشن انیشی ایٹو کی کامیابیوں کا تسلسل ہے جس کے تحت 2021 سے 2025 تک پاکستان کے توانائی شعبے کے اداروں کو تکنیکی معاونت اور استعدادِ کار بڑھانے میں معاونت فراہم کی گئی۔ اس پروگرام کے دوران پاکستان کے توانائی شعبے سے وابستہ ماہرین نے ڈنمارک کے دو مطالعاتی دوروں میں شرکت کی جبکہ کراچی اور لاہور میں سالانہ دو گرین ٹیک تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیاجن کے ذریعے علم و تجربات کے تبادلے، توانائی کے شعبے کے لئے طویل المدتی وژن کے فروغ اور پائیدار و ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے تیز تر انضمام کو فروغ دیا گیا۔ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان یہ شراکت داری توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید تکنیکی مہارت کے فروغ، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور صاف، محفوظ اور کم لاگت توانائی کے نظام کی تشکیل کی جانب دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔