چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس،نیشنل بینک سمیت تمام کمرشل بینکوں کو اسلامک بینکنگ میں ڈھالنےاور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور
چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس،نیشنل بینک سمیت تمام کمرشل بینکوں کو اسلامک بینکنگ میں ڈھالنےاور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور

مزید خبریں
کراچی۔ 05 اگست (اے پی پی):سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور سیلانی سکول آف بزنس اینڈ اسلامک لیڈر شپ کے تحت چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس بدھ کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں نیشنل بینک سمیت تمام کمرشل بینکوں کو اسلامک بینکنگ میں ڈھالنے، معیشت کی بہتری، نوجوانوں کے روزگار اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ۔جاری اعلامیہ کے مطابق کانفرنس سے وزیر مملکت اور پاکستان ورچویل ایسسٹس اتھارٹی کے چیئرمین بلال ثاقب نے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں۔اس موقع پر ایک قرار داد بھی اتفاق رائے سے منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ 16بینکوں میں سے جن 5 بینکوں نے اسلامی بینکنگ کو اپنانے سے انکار کیا ہے ان بینکوں کو بھی 31دسمبر 2027تک اسلامی بینکنگ میں ڈھالا جائے اور کوئی رعایت نہ دی جائے کیونکہ غیر ملکی بینکوں کو پاکستان کے قوانین کی پاسداری کرنی چاہئے جو دنیا کا واضح قانون ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس موقع پر سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ اور ترسیلاتِ زر میں مزید سہولتوں کا اعلان کیا اور یقین دلایا کہ کانفرنس کی سفارشات کو بینکنگ کے بدلتے نظام میں اہمیت دی جائے گی۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا کہ یکم جنوری 2028سے جاری ہونے والا ہر نیا مقامی قرض شرعی تقاضوں کے مطابق ہوگا، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے معاشی چیلنجز اور حکومتی پالیسیوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی محمد بشیر فاروق نے کہا کہ دسمبر 2027 تک نیشنل بینک سمیت تمام کمرشل بینکس اسلامی بینکاری پر منتقل ہوجانے چاہئیں ۔کانفرنس سے میزان بینک کے گروپ ہیڈ آف شریعہ کمپلائنس احمد علی صدیقی، چیئرمین یونی لیور پاکستان عامر پراچہ، سی ای او تابانی گروپ حمزہ تابانی ،سیلانی ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ افضل چامڑیہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت اور خطاب کیا۔وزیر مملکت بلال ثاقب نے اپنے ورچویل خطاب میں مزید کہا کہ انٹرنیٹ نے دنیا کو بدل دیا ہے۔
بلاک چین اور مصنوعی ذہانت صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ انسان کی پروڈکٹیوٹی کو ری ڈیفائن کررہی ہے ، اس وقت اربوں ڈالرز کی ٹرانزیکشن اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ہورہی ہے اور یہ ایجنٹس ایک دوسرے کی پروڈکٹ اور سروسز خرید رہے ہیں،یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جب بھی مصنوعی ذہانت کو ویلیو ایڈ کرنی ہوگی تو وہ فزیکلی جا کر کوئی بینک اکائونٹ نہیں کھولے گی ،نہ چیک لکھے گی بلکہ کرپٹو میں ٹرانزیکشن کرے گی، اس لیے ان ایجنٹس نے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت شروع کر دی ہے ۔البتہ مصنوعی ذہانت انفارمیشن تو دے سکتی ہے لیکن حکمت نہیں دے سکتی ،لیکن اسے بڑھا سکتی ہے،انصاف کا فیصلہ انسان ہی کرے گا ۔اب اسے اقدار سکھانی ہیں۔ جو اسلام 1400سال پہلے آخری نبی کی صادق اور امین کی پہچان کی شکل میں سکھا چکا ہے ۔ پوری دنیا کی اکانومی سچ اور اعتماد پر چلتی ہے ،جہاں اعتماد نہیں ہوگا ،وہاں کاروبار نہیں ہوسکتا، اگر ٹرسٹ مضبوط ہو تو معاشرے ترقی کرتے ہیں ،ٹیکنالوجی کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ بلاک چین کو صرف کرپٹو کرنسی کی نظر سے نہ دیکھا جائے،یہ ایک صداقت اور امانت کا ذریعہ ہے،یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جو اونرشپ کو تحفظ دیتی ہے ،ریکارڈز شفاف بناتی ہے، فراڈ روکتی ہے، یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں ،امانت کی ڈیجیٹل شکل ہے، اگر پاکستان میں ہر قسم کی خیرات اور زکو ةکا پیسہ ڈیجیٹلائز ہوجائے تو شفافیت بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک بہت بڑا اثاثہ 60 فیصد نوجوان ہیں ، لاکھوں فری لانسر ز ہیں ،صرف انہیں مواقع نہیں دیئے جارہے ہیں،اس کے باوجود نوجوانوں نے اپنا راستہ خود ہی نکالا ہے۔سیلانی نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کرکے بہت زبردست کام کررہا ہے۔اس لیے نوجوان اپنے آپ کو صرف ڈگری تک محدود نہ رکھیں،ڈگری سسٹم ڈیڑھ سو سال پرانا ہوگیا ہے،پاکستان کا نوجوان یہاں بیٹھ کراگر دنیا کے کسی ملک کی پرابلم حل کرے گا تو پوری دنیا کی مارکیٹ اسے مل جائے گی،ہمیں اپنی تقدیراب ٹیکنالوجی کی مدد سے بدلنی ہے،نوجوانوں نے پاکستان کو کسی سرکاری مدد کے بغیر دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر مارکیٹ بنادیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے نیشنل اسلامک اکنامک فورم (نیف)کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلانی ویلفیئر ملک میں سماجی اور معاشی ترقی کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ آئی ٹی ٹریننگ کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ بینکرز اور شریعہ اسکالرز کی استعداد کار بڑھانے، جامعات اور مدارس میں آگاہی پیدا کرنے اور حکومت کے ساتھ مل کر اسلامی مالیاتی نظام کی منتقلی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے ترسیلاتِ زر بھیجنے میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے اور بینکاری نظام کو مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت نے 2027 کے بعد کے بینکاری نظام کے لیے واضح حکمت عملی اختیار کر لی ہے، 16 اپریل 2026 سے ہائبرڈ سکوک کا اجرا کیا جا چکا ہے جبکہ شارٹ ٹرم سکوک کلچر کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکوں کو ٹی بلز کا متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے اور مستقبل میں پورا بینکاری نظام ربا سے پاک مالیاتی ڈھانچے کی جانب منتقل ہوگا۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا کہ ربا فری پاکستان کے لیے علما ء کی تحریک قابل تحسین ہے اور اسٹیٹ بینک اس مشن میں ایک کارکن کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بینکنگ انڈسٹری کے 29 فیصد ڈپازٹس اور تقریبا 40 فیصد فنانسنگ اسلامی بینکاری کے تحت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یکم جنوری 2028 سے جاری ہونے والا ہر نیا مقامی قرض شریعہ کمپلائنٹ ہوگا جبکہ قوانین میں تمام ضروری ترامیم 31 دسمبر 2027 تک مکمل کر لی جائیں گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ برس میں باقی بینک بھی اسلامی بینکاری کی طرف منتقل ہو جائیں گے اور یکم جنوری 2028 کے بعد کوئی بینک روایتی بینکاری کی نئی مصنوعات جاری نہیں کرے گا۔ڈپٹی گورنر نے کہا کہ قوانین میں ترامیم 31 دسمبر 2027 سے پہلے کرلی جائینگی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریگا اور2028 سے تمام بینکنگ نظام سود سے پاک ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے،ہم اس کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ کانفرنس میں شرکاء کو شیلڈز پیش کی گئیں ۔کانفرنس میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں اس حوالے سے آگاہی پر بھرپور زور دیا گیا ۔کانفرنس کے مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام، جدید ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی مہارت اور معاشی اصلاحات کا امتزاج ہی پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔







