"فرانس میں پاکستان کے سفارت خانے نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔”
فرانس میں پاکستان کے سفارت خانے کےزیراہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی تقریب،بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

مزید خبریں
پیرس۔6اگست (اے پی پی):فرانس میں پاکستان کے سفارت خانے نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پربھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرکے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں پاکستانی کمیونٹی، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔فرانس میں پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے جاری بیان مطابق اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے، جن میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی پس منظر، بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیرکے عوام پر بھارتی مظالم اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون، جو ان دنوں فرانس کے دورے پر ہیں، نے سفارت خانے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا۔ انہوں نے گزشتہ 79 برسوں کے دوران بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں اور مشکلات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ جدوجہد ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی۔انہوں نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسئلۂ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔اس موقع پر فرانس میں پاکستان کی سفیرممتاز زہرا بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری طویل جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری عوام کو مسلسل ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے، حالانکہ ان قراردادوں میں کشمیری عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال کی ضمانت دی گئی ہے۔انہوں نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے غیر قانونی اور غیر معمولی اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنا اوربھارت کے غیرقانونی یرتسلط جموں و کشمیر کے آبادیاتی اور سیاسی تشخص کو تبدیل کرنا تھا تاکہ کشمیری عوام کو ان ہی کی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان کا قومی نصب العین اور اس کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے مسئلۂ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانے میں پاکستانی سفارت کاروں کے کردار کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل تک کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔مقررین نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کئے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کو اجاگر کیا۔








