سٹیٹ بینک نے مارکیٹ میں 3276.6 ارب روپے کی لیکویڈیٹی فراہم کر دی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے جمعہ کو ریورس ریپو پرچیز اور شریعہ کمپلائنٹ مضاربہ بنیاد پر اوپن مارکیٹ آپریشن کے ذریعے مجموعی طور پر 3276.6 ارب روپے مارکیٹ میں فراہم کر دئیے۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق مرکزی بینک نے 7 اگست 2026ء کو 10 اور 14 روزہ مدت کے لیے ریورس ریپو پرچیز (انجیکشن) کے تحت اوپن مارکیٹ آپریشن کیا

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے جمعہ کو ریورس ریپو پرچیز اور شریعہ کمپلائنٹ مضاربہ بنیاد پر اوپن مارکیٹ آپریشن کے ذریعے مجموعی طور پر 3276.6 ارب روپے مارکیٹ میں فراہم کر دئیے۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق مرکزی بینک نے 7 اگست 2026ء کو 10 اور 14 روزہ مدت کے لیے ریورس ریپو پرچیز (انجیکشن) کے تحت اوپن مارکیٹ آپریشن کیا جس میں 23 بولیوں کے مقابلے میں 2656.6 ارب روپے فراہم کیے گئے جبکہ شریعہ کمپلائنٹ مضاربہ بنیاد او ایم او کے ذریعے مزید 620 ارب روپے مارکیٹ میں فراہم کیے گئے۔14 روزہ ریورس ریپو پرچیز کے لیے مرکزی بینک کو 17 بولیاں موصول ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 2,965.65 ارب روپے تھی۔ ان پر منافع کی شرح 11.51 فیصد سے 11.56 فیصد کے درمیان رہی۔ سٹیٹ بینک نے 11.51 فیصد شرح منافع پر 17 بولیوں کے مقابلے میں 2500 ارب روپے قبول کیے۔ 11.51 فیصد شرح منافع پر مجموعی طور پر 1577 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی جس میں سے سٹیٹ بینک نے 1111.35 ارب روپے پرو ریٹا بنیاد پر قبول کیے۔ مزید برآں 10 روزہ مدت کے لیے مرکزی بینک کو 6 بولیاں موصول ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 156.6 ارب روپے تھی اور منافع کی شرح 11.54 فیصد سے 11.56 فیصد کے درمیان رہی۔ سٹیٹ بینک نے 11.54 فیصد شرح منافع پر تمام 5 بولیاں مکمل رقم کے ساتھ قبول کیں۔دریں اثناء سٹیٹ بینک نے 10 اور 14 روزہ مدت کے لیے شریعہ کمپلائنٹ مضاربہ بنیاد اوپن مارکیٹ آپریشن بھی منعقد کیا۔10 روزہ مدت کے لیے مرکزی بینک کو 6 کوٹس موصول ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 170 ارب روپے تھی اور منافع کی شرح 11.55 فیصد سے 11.58 فیصد کے درمیان رہی۔ سٹیٹ بینک نے 11.55 فیصد شرح منافع پر تمام 6 بولیاں مکمل طور پر قبول کر لیں۔اسی طرح 14 روزہ مدت کے لیے مرکزی بینک کو 4 بولیاں موصول ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 487 ارب روپے تھی اور منافع کی شرح 11.52 فیصد سے 11.56 فیصد کے درمیان رہی۔ سٹیٹ بینک نے 11.52 فیصد شرح منافع پر 450 ارب روپے قبول کیے۔ 11.52 فیصد شرح منافع پر مجموعی طور پر 385 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی جس میں سے سٹیٹ بینک نے 348 ارب روپے پرو ریٹا بنیاد پر قبول کیے۔