وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے راولپنڈی اسلام آباد فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن (رپجا) کے لیے 5 لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت پاکستان کی ثقافت اور ورثے کے مشترکہ فروغ کے لیے ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے گی۔
وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی کا رپجا کے لیے 5 لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان، ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے ایم او یو پر اتفاق
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے راولپنڈی اسلام آباد فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن (رپجا) کے لیے 5 لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت پاکستان کی ثقافت اور ورثے کے مشترکہ فروغ کے لیے ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے گی۔انہوں نے یہ اعلان پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں راولپنڈی اسلام آباد فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور السادات گروپ کے تعاون سے منعقدہ 16ویں سالانہ فوٹو نمائش ’’پاکستان کا ثقافتی و قومی ورثہ – ہماری شناخت، ہمارا فخر‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود، السادات گروپ کے چیئرمین سید صداقت شاہ، پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے شرکت کی جبکہ تقریب کی صدارت ریپجا کے صدر سجاد حیدر نے کی۔ نمائش میں سینئر فوٹو جرنلسٹس، میڈیا پروفیشنلز اور بڑی تعداد میں مہمانوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ 10 سے زائد تاریخی ورثے کے مقامات موجود ہیں جو خطے کی بھرپور تاریخ اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت نے ان تاریخی مقامات کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے بحالی اور تحفظ کے منصوبے شروع کیے ہیں، یہ تاریخی مقامات محض یادگاریں نہیں بلکہ پاکستان کی شناخت اور قومی فخر کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر نے رپجا کے لیے 5 لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اور ایسوسی ایشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ فوٹوگرافی، عوامی آگاہی اور تحفظ کے اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ثقافت اور ورثے کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جا سکے۔سینیٹر طلحہ محمود نے فوٹو جرنلسٹس کو ’’قوم کی آنکھیں‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ انہوں نے فوٹو جرنلسٹس کے کام میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رپجا کے میڈیا روم کے لیے ضروری آلات فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔السادات گروپ کے چیئرمین سید صداقت شاہ نے پاکستان کی ثقافت کو مثبت انداز میں اجاگر کرنے اور مؤثر تصاویر کے ذریعے اسے محفوظ کرنے پر فوٹوگرافرز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے رپجا کے لیے سالانہ 3 لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان کرنے کے علاوہ ایسوسی ایشن کے ارکان کے لیے جدید فوٹوگرافی کورسز کی پیشکش بھی کی۔پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے کہا کہ وہ پاکستانی عوام کی اپنی ثقافت اور ورثے سے محبت دیکھ کر خوش ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن کا سفارتخانہ رپجا کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں اسی نوعیت کی ایک نمائش منعقد کرے گا جس میں فلپائن کے ثقافتی ورثے اور ثقافت کو پاکستان کی بھرپور ثقافتی روایات کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔نمائش میں جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 85 فوٹو جرنلسٹس نے اپنے فن پارے پیش کیے۔تقریب میں سینئر فوٹو جرنلسٹس جاوید ناصر چوہدری، جاوید بشیر، شاد لطیف، عادل الفت شاہ، مظہر خان، تنویر شہزاد، افضل چوہدری، جہانگیر چوہدری، سہیل شہزاد، محمد عاصم، ذوالفقار خان اور راجہ مدثر سمیت دیگر نے شرکت کی۔نمائش میں تاریخی ورثے کے مقامات کی شاندار اور مثالی تصاویر پیش کی گئیں، جن میں بان فقیراں اسٹوپا (دوسری تا پانچویں صدی عیسوی)، پھروالا قلعہ (11ویں صدی)، مائی قمرو مسجد (150 سال پرانی)، راول قلعہ (16ویں صدی)، شاہ اللہ دتہ غاریں (2400 سال پرانی)، مقبرہ سلطان مقرب خان (18ویں صدی)، کوری پویلین (18ویں صدی)، برطانوی دور کی یادگار (20ویں صدی)، ریہارا مسجد (18ویں صدی)، راول ڈیم میں ہندو مندر (18ویں صدی) اور 1914 میں تعمیر کیا گیا کورنگ دریا ریلوے پل شامل تھے۔نمائش میں وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے تحت محفوظ 6 تاریخی مقامات، اس وقت تحفظ کے عمل سے گزرنے والے 4 مقامات اور رپجا کی جانب سے شناخت کیے گئے 3 مقامات شامل تھے۔نمائش میں پاکستان کی زندہ ثقافت کو بھی ملک بھر کی روزمرہ زندگی کی عکاسی کرنے والی مؤثر تصاویر کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔افتتاحی خطاب میں رپجا کے صدر سجاد حیدر نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے گزشتہ 23 برس کے دوران متعدد پیشہ ورانہ تقریبات کامیابی سے منعقد کی ہیں اور اپنے ارکان میں تقریباً 1 کروڑ روپے مالیت کے لیپ ٹاپس، موبائل فونز، کیمرا بیگز اور نقد انعامات تقسیم کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن ملک کی صفِ اول کی صحافتی تنظیموں میں شامل ہے اور وفاقی وزیر کے ساتھ مل کر شہریوں اور غیر ملکی مندوبین میں پاکستان کے قومی ورثے کے مقامات کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر فوٹو جرنلسٹ افضل چوہدری نے کہا کہ فوٹوگرافی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نمائش پاکستانی فوٹو جرنلسٹس کی ملک کے بھرپور ثقافتی ورثے اور تاریخی مقامات کو دستاویزی شکل دینے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جبکہ آئندہ نسلوں کے لیے ان قیمتی اثاثوں کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنے میں بھی معاون ہے۔انہوں نے وزارت قومی ورثہ و ثقافت، السادات گروپ اور تمام معاون اداروں کی جانب سے فوٹوگرافرز کی حوصلہ افزائی اور ایسی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے فروغ کو سراہا۔تقریب کے اختتام پر السادات گروپ اور طلحہ محمود فاؤنڈیشن نے رپجا کے تمام ارکان کو تحفے کے طور پر پیشہ ورانہ کیمرا بیگز دیے جبکہ منتظمین کی جانب سے ممتاز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔








