مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں، بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں، بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے، ہر وہ ملک اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے جو معاہدے کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہو۔ اتوار کو ایکس پر اپنے پیغام میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (مکہ معاہدہ) کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” (مکہ معاہدہ) کے حوالے سے جاری بحث اور عوامی دلچسپی کے تناظر میں، وہ اس معاہدے کے بارے میں وضاحت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ جس پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ طور پر دستخط کئے ہیں ، تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد امن و سلامتی کے مختلف چیلنجز سے نمٹنے، اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ خواہش کو آگے بڑھانا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے، یا دیگر ممالک و تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی جگہ لیتا ہے۔ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں، بلکہ وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہماری جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مکہ معاہدہ خطے کے ہر ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے آمادگی رکھتا ہو۔ یہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ پائیدار امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کے فروغ اور اپنی اقوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم پر قائم ہیں۔

مزید خبریں