پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے، راؤ عبد الکریم

چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی فیصل آباد راؤ عبد الکریم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان باہمی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی استحکام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے

فیصل آباد۔ 10 اگست (اے پی پی):چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی فیصل آباد راؤ عبد الکریم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان باہمی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور علاقائی استحکام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعاون خطے میں امن، سلامتی اور باہمی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ترجمان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی میاں اشفاق نے اے پی پی کو بتایا کہ سی ای اوراؤ عبد الکریم نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں جبکہ دفاعی اور عسکری شعبوں میں باہمی تعاون ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان باہمی دفاع، اسٹریٹجک تعاون، عسکری اشتراک، مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون خطے میں امن و سلامتی کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، خودمختاری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورے خطے میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ راؤ عبد الکریم کے مطابق برادر ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے جبکہ تینوں ممالک امن، سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کا فروغ خطے میں ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔