آبادیاتی صورتحال قلیل مدتی اقدامات سے ہٹ کر فوری مضبوط اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اپنانے کی متقاضی ہے، ماہرین

پالیسی سازوں، صحت کے ماہرین اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور آبادی کی درمیانی عمر صرف 19 سال ہے، ایسے میں ملک کی آبادیاتی صورتحال فوری طور پر قلیل مدتی اقدامات سے ہٹ کر مضبوط اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اپنانے کا تقاضا کرتی ہے۔

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پالیسی سازوں، صحت کے ماہرین اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور آبادی کی درمیانی عمر صرف 19 سال ہے، ایسے میں ملک کی آبادیاتی صورتحال فوری طور پر قلیل مدتی اقدامات سے ہٹ کر مضبوط اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اپنانے کا تقاضا کرتی ہے۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی جاری پریس ریلیز کے مطابق پیر کے روز ’’پاکستان میں آبادی میں اضافہ اور پالیسی میں ہم آہنگی: چیلنجز اور راستے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں متعلقہ فریقین نے شرکت کی، سیمینار میں پاکستان کی آبادی سے متعلق پالیسی کے منظرنامے کو تشکیل دینے والے ادارہ جاتی اختلافات، علاقائی سطح پر عملدرآمد کی رکاوٹوں اور کمیونٹی کی سطح کے تصورات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے سیمینار کے اہم نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کی حرکیات کو صرف طبی نقطہ نظر تک محدود کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غیر منظم کلینکس میں غیر محفوظ طریقہ کار سے حمل کی بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جن شیر خوار بچوں کو ماں کا دودھ نہیں پلایا جاتا، ان میں اسہال سے موت کا امکان 11 گنا جبکہ نمونیا سے موت کا امکان پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے، جو صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ تعلیم اور اقتصادی منصوبہ بندی کو شامل کرنے والے کثیر شعبہ جاتی نقطہ نظر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز سے وابستہ رابعہ ظفر نے بڑے معاشی تخمینوں کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے طویل مدتی مالی معاونت، علاقائی ہم آہنگی اور زمینی سطح پر عزم میں ساختی کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ ردعمل پر مبنی منصوبہ بندی سے نکل کر منظم اور تخمینوں پر مبنی فریم ورک اختیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صرف انسانی سرمائے، صحت اور مہارتوں کی ترقی میں ہدفی سرمایہ کاری کے ذریعے ہی پاکستان آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن (یو این ایف پی اے) سے وابستہ فرح اشرف نے بکھرے ہوئے محکمانہ نظام کو ختم کرنے کی فوری ضرورت اجاگر کی جو پالیسی سازی میں ہم آہنگی کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بن رہا ہے۔ یو این ایف پی اے کی معاونت سے جاری اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ متحدہ ڈیٹا گورننس، وفاقی اور صوبائی فریقین کے درمیان مربوط رابطہ کاری اور قومی بجٹ کو طویل مدتی آبادیاتی رجحانات سے ہم آہنگ کرنا مؤثر پالیسی پر عملدرآمد کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تولیدی عمر کی 5 کروڑ 70 لاکھ خواتین ہیں، جن کی تعداد 2050 تک 10 کروڑ سے تجاوز کرنے کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی افرادی قوت میں شامل آبادی، جسے نوجوانوں کا وہ گروہ تقویت دے رہا ہے جو مجموعی آبادی کا 67 فیصد ہے، اسی عرصے کے دوران 16 کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ کر 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا بنیادی چیلنج پالیسی بیانات کی کمی نہیں بلکہ طویل مدتی مالی معاونت کی ناکافی دستیابی، علاقائی سطح پر غیر مساوی رسائی اور محکموں کے درمیان کمزور رابطہ کاری ہے۔گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر شفقت منیر نے تحقیق اور قابلِ عمل حکمرانی کے درمیان رابطہ قائم کرنے والے شواہد پر مبنی کثیر شعبہ جاتی مکالمے کے لیے ایس ڈی پی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان کو اب ’’مکالمے سے عملدرآمد‘‘ کی جانب بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار پاکستان میں آبادیاتی اور ترقیاتی پالیسی سے متعلق ایس ڈی پی آئی کے جاری تحقیقی ایجنڈے کا حصہ ہے۔