سکول سے یونیورسٹی تک ہر طالب علم اپنے نام کا ایک پودا لگائے، ڈگری مکمل ہونے تک درخت بن جائے گا، ڈاکٹر الطاف سیال

سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں جشنِ آزادی پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں ’’گرین پاکستان، گرین فیوچر‘‘ کے عنوان سے شجرکاری مہم اور ماحولیاتی آگاہی نشست کا انعقاد کیا گیا

حیدرآباد۔ 11 اگست (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں جشنِ آزادی پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں ’’گرین پاکستان، گرین فیوچر‘‘ کے عنوان سے شجرکاری مہم اور ماحولیاتی آگاہی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے قریب گرین ہاؤس کے سامنے ہونے والی تقریب میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، اساتذہ، افسران اور طلبہ نے پودے لگائے اور ماحول کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ پاکستان کو جنگلات کے تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے لیے فوری اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔ قومی پالیسی کے تحت ملک کے کم از کم 25 فیصد رقبے کو جنگلات اور درختوں سے ڈھانپنے کی ضرورت ہے، جبکہ سندھ میں جنگلات کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ریورائن جنگلات کا رقبہ 1.71 فیصد جبکہ آبپاشی سے قائم جنگلات 0.58 فیصد ہیں، اس طرح پیداواری جنگلات کا مجموعی رقبہ تقریباً 2.29 فیصد بنتا ہے۔ جنگلات کی بحالی، ایگروفاریسٹری، شہری شجرکاری، نہروں اور سڑکوں کے اطراف درخت لگانے اور مینگرووز کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

ڈاکٹر الطاف سیال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو شدید گرمی، ہیٹ ویوز، غیر معمولی بارشوں، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار پر موسمی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں شجرکاری محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ سکول سے یونیورسٹی تک ہر طالب علم اپنے نام کا ایک پودا لگائے اور اس کی مکمل ذمہ داری بھی خود اٹھائے۔ اگر طالب علم اپنی تعلیمی زندگی کے دوران اس پودے کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کرے تو ڈگری مکمل ہونے تک یہ پودا ایک تناور درخت بن سکتا ہے۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے کہا کہ وطن سے محبت کا عملی تقاضا ملک کے قدرتی وسائل کا تحفظ بھی ہے، اس لیے شجرکاری کو جشنِ آزادی سے جوڑنا ایک مثبت قومی روایت ہے۔چیئرمین سٹیپ ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھار نے کہا کہ آزادی ہمیں حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی دیتی ہے اور ماحول کا تحفظ ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی ادارے نئی نسل میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تقریب میں ڈین ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر، ڈین ڈاکٹر سید غیاث الدین شاہ راشدی، ڈین ڈاکٹر منیر احمد منگریو، یونیورسٹی آف روہونا سری لنکا کی سینئر لیکچرار ڈاکٹر امانی منناکارا، اساتذہ، افسران اور طلبہنے بھی پودے لگائے اور پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے اور ماحول کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔