وزیراعلیٰ پنجاب سے قائم مقام امریکی سفیرکی ملاقات، اے آئی، ڈیجیٹل اثاثوں اور انرجی جیسے شعبوں میں تعاون پر اتفاق

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے قائم مقام امریکی سفیرنیٹلی بیکر نے ملاقات کی جن کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب میں فروغ تعلیم، سکیورٹی اور سرمایہ کاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاہور۔12اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے قائم مقام امریکی سفیرنیٹلی بیکر نے ملاقات کی جن کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب میں فروغ تعلیم، سکیورٹی اور سرمایہ کاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے وزیراعلی ٰمریم نواز شریف کو خواتین کیلئے پراجیکٹس پر خراج تحسین پیش کیا۔ملاقات میں سکیورٹی،آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی )، ڈیجیٹل اثاثوں اور انرجی جیسے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر پنجاب میں سیلاب اور سموگ سے بچنے کیلئے امریکی ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔لاہورمیں پنجاب یو ایس بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔

قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے لاہور میں بسنت فیسٹیول کے انعقاد کو سراہا۔قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکرز نے محفوظ بسنت کیلئے حکومت پنجاب کے اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا۔قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے کہا کہ پاکستان بہت پسند ہے،بالخصوص پنجاب اور لاہورکے لوگ زندہ دل ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال بسنت میلے کو مزید توسیع دیں گے۔پنجاب میں خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے قانونی اقدامات کر رہے ہیں۔پنجاب میں ترقی، ماحولیاتی تبدیلیوں کی پالیسی بنا رہے ہیں۔امریکہ میں مقیم10 لاکھ پنجاب کے اوورسیز پاکستانی ملک کا قابل قدر اثاثہ ہیں۔مون سون میں پیشگی اقدامات اور ڈسٹرکٹ واساز کے قیام سے بارشی پانی کے جلد نکاس کو ممکن بنایا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب بدل رہا ہے، پنجاب کے شہر اور دیہات ری فارم ہو رہے ہیں۔پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے وویمن ایمپاورمنٹ کو محض علامتی نہیں عملی شکل دی۔پنجاب میں خواتین کی آمدورفت میں آسانی کیلئے الیکٹرک سکوٹی اور الیکٹروبس سروس شروع کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین کو مالی خود مختاری کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے سمال بزنس کیلئے بلاسود قرضے دیئے جا رہے ہیں۔خواتین کے تحفظ کیلئے ڈائریکٹ پنک بٹن اور ورچوئل پولیس اسٹیشن پہلا اقدام ہے۔

 

مزید خبریں