کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن (ایس آر ایم) کے حوالے سے بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت گلوبل سائوتھ پر اس ابھرتی ہوئی موسمیاتی مداخلتی ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات، سائنسی پہلوئوں، خطرات، گورننس اور پالیسی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کامسیٹس یونیورسٹی میں سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن کے حوالے سے بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن (ایس آر ایم) کے حوالے سے بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت گلوبل سائوتھ پر اس ابھرتی ہوئی موسمیاتی مداخلتی ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات، سائنسی پہلوئوں، خطرات، گورننس اور پالیسی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پاکستان میں سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن سے متعلق تحقیقی نتائج کی تشہیر اور پالیسی سازوں میں آگاہی کے عنوان سے ورکشاپ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ اس میں پالیسی سازوں، حکومتی حکام، محققین، ماہرین تعلیم، بین الاقوامی شراکت داروں اور نوجوان محققین نے شرکت کی۔
ورکشاپ کا مقصد سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن کے بارے میں باخبر مکالمے کو فروغ دینے، تحقیقی استعداد بڑھانے اور سائنس و پالیسی کے درمیان روابط مضبوط بنانا تھا۔ اس موقع پر پاکستان جیسے موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ملک کے لیے ابھرتے ہوئے موسمیاتی ردعمل کے ممکنہ راستوں اور ان سے وابستہ سائنسی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ مہمان خصوصی ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر (ٹی آئی) نے سائنسی معیار، بین الشعبہ جاتی تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے یونیورسٹی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تحقیقی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ گلوبل سائوتھ کے ممالک کے نقطہ نظر کو عالمی موسمیاتی تحقیق اور گورننس سے متعلق مباحث میں موثر طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔
دی ڈگریز انیشی ایٹو، برطانیہ کی پالیسی انگیجمنٹ مینجر برائے ایشیا و پیسیفک آئی لینڈز مومیتا باسک مو نے گلوبل سائوتھ بالخصوص ایشیا میں ایس آر ایم سے متعلق تحقیق، استعداد کار میں اضافے اور باخبر مکالمے کے فروغ میں انیشی ایٹو کے کردار پر روشنی ڈالی۔ شعبہ موسمیات کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے سربراہ اور منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر ڈاکٹر اطہر حسین نے تحقیقی نتائج کو عام کرنے اور محققین، پالیسی سازوں اور قومی اداروں کے درمیان مسلسل روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ورکشاپ میں ایس آر ایم کے سائنسی، ماحولیاتی، صحت، اخلاقی، گورننس اور پالیسی پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صحت کے خطرات، گورننس کے چیلنجز اور کمزور طبقات پر ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ شرکا نے ایک کثیرالشعبہ اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ تحقیقی ایجنڈے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی سائنس، صحت عامہ، آفات کے خطرات میں کمی، زراعت، آبی وسائل، گورننس اور سماجی علوم کے ماہرین کو تحقیق کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ورکشاپ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ گلوبل سائوتھ کے کمزور اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی ترجیحات اور نقطہ نظر کو سولر ریڈی ایشن موڈیفکیشن سے متعلق عالمی تحقیق اور گورننس کے مباحث میں موثر نمائندگی دی جائے ۔
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور دی ڈگریز انیشی ایٹو کے اشتراک سے منعقدہ ورکشاپ نے جامعات، حکومت، تحقیقی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان مستقل تعاون، شفاف مکالمے اور قابل اعتماد سائنسی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے بین الشعبہ جاتی اور بین الاقوامی سطح پر منسلک تحقیق کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی لچک، ذمہ دارانہ موسمیاتی تحقیق اور پائیدار ترقی کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق کو مزید فروغ دیا جائے گا۔








