پاکستان اور قازقستان نے دوطرفہ زرعی تعاون کو نئی سمت دینے، موجودہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور ان کو ٹھوس تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان، قازقستان کا زرعی تعاون بڑھانے اور معاہدوں پر عملدرآمد تیز کرنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):پاکستان اور قازقستان نے دوطرفہ زرعی تعاون کو نئی سمت دینے، موجودہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور ان کو ٹھوس تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق یہ اتفاق رائے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ ملاقات میں زرعی تجارت، غذائی تحفظ، علاقائی رابطوں، زرعی مشینری اور نجی شعبے کے تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی وسیع استعداد موجود ہے۔ انہوں نے دوطرفہ معاہدوں پر نتیجہ خیز انداز میں عملدرآمد اور قابل عمل منصوبوں کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اور کاروباری روابط کو فروغ دینے پر زور دیا۔دونوں ممالک نے پاکستان-قازقستان مشترکہ ورکنگ گروپ برائے زراعت کا آئندہ اجلاس قازقستان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا جس میں باہمی تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لینے اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ پاکستان اجلاس میں شرکت کے لیے اپنا وفد نامزد کرے گا۔قازقستان نے پاکستان کو گندم کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ پاکستانی جانب سے قیمت، معیار اور فراہمی کی شرائط سمیت ملکی ضروریات کے تناظر میں تجویز کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ملاقات میں زرعی تجارت کے فروغ کے لیے علاقائی رابطوں کو بنیادی اہمیت دینے پر بھی زور دیا گیا۔
ملاقات کے دوران وسطی ایشیا کو پاکستان سے ملانے والے مجوزہ ریلوے اور علاقائی ٹرانسپورٹ روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا جنہیں مال برداری کے اخراجات کم کرنے اور زرعی اجناس کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا۔پاکستان نے آم، امرود، کھجور، کیلے، آلو اور پیاز سمیت اپنی زرعی اجناس کی برآمدی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا اور قازقستان و وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس ضمن میں بہتر لاجسٹکس، مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی سہولت کاری کے موثر کو اہم قرار دیا گیا۔زرعی مشینری اور میکانائزیشن بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کے لیے کم لاگت ٹریکٹرز اور جدید زرعی آلات کی فراہمی کے حوالے سے بھی باہمی تعاون کے ایک اہم ممکنہ شعبے کے طور پر سامنے آئے۔
دونوں جانب سے متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں کو اس شعبے میں شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے زرعی اداروں، تحقیقی مراکز اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کے تبادلے، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر مبنی زرعی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔دونوں جانب سے پاکستان اور قازقستان کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور زراعت کے شعبے میں عملی تعاون کو نئی رفتار دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جو دونوں ممالک کے وسیع تر اقتصادی اور تزویراتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔








