منشیات کے مکروہ دھندے پر چلنے والی ناکام افغان طالبان رجیم نے خطہ کیلئے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔ افغان طالبان رجیم نے منشیات اور پراکسی دہشت گرد نیٹ ورکس کو افغان معیشت کاواحد سہارا بنا لیا ہے۔
منشیات کے مکروہ دھندے پر چلنے والی ناکام افغان طالبان رجیم نے خطہ کیلئے خطرات بڑھا دئیے

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):منشیات کے مکروہ دھندے پر چلنے والی ناکام افغان طالبان رجیم نے خطہ کیلئے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔ افغان طالبان رجیم نے منشیات اور پراکسی دہشت گرد نیٹ ورکس کو افغان معیشت کاواحد سہارا بنا لیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم کئی بار افغانستان سے پھیلنے والے جرائم کے سنگین خدشات سے آگاہ کرچکا ہے۔ازبک میڈیا زامن کے مطابق سکیورٹی فورسز نے آمو دریا کے قریب سرحدی علاقے میں ڈرون کے ذریعے ازبکستان میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
افغانستان کی جانب سے نامعلوم افراد نے منشیات ایک بغیر پائلٹ ڈرون کے ساتھ باندھ کر اسے ازبکستان کی حدود کی جانب بھیجیں۔ امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس( اے پی) کے مطابق افغانستان کے سابق جنرل اورسیاستدان کومنشیات اورآتشیں اسلحہ کےالزامات کا سامنا کرنے کیلئے امریکہ کےحوالے کردیا گیا۔افغانستان انٹرنیشنل کےمطابق تاجکستان نے افغانستان سے اسمگل کی جانے والی 58 کلوگرام منشیات ضبط کرلیں۔تاجکستان کی سرکاری رپورٹ کے مطابق ضبط کی گئی منشیات میں 30 کلوگرام افیون، 19 کلوگرام چرس اور 9 کلوگرام ہیروئن شامل تھی۔ افغان میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 2026 کے پہلے6 ماہ کے دوران سرحد پر7 جھڑپوں میں 17 افغان منشیات اسمگلروں کو ہلاک جبکہ 18 افراد کو گرفتار کیا۔
افغان میڈیا نے کہا ہے کہ تاجکستان نے 2025 میں افغانستان سے اسمگل کی جانے والی 2,742 کلوگرام منشیات ضبط کی تھیں، جن میں 2024 کے مقابلے میں 50 فیصد کا اضافہ ہواہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نارکو ٹیررریاست میں تبدیل کر دیا ہے، جس کا معاشی ڈھانچہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر منحصرہے۔افغان طالبان کی انسدادِ منشیات کے دعوے محض منافقت کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں، موجودہ رجیم نے ملک کو مکمل طور پرنارکو اکانومی پر منحصرایک ناکام ریاست بنا دیا ہے۔








