پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ، سی پی ایس سی نے پیوٹ میگزین کے خصوصی پلاٹینم جوبلی ایڈیشن کا اجراء کر دیا
پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ، سی پی ایس سی نے پیوٹ میگزین کے خصوصی پلاٹینم جوبلی ایڈیشن کا اجراء کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی) کے زیراہتمام پیوٹ (PIVOT) میگزین کے خصوصی پلاٹینم جوبلی ایڈیشن ’’پلاٹینم جوبلی کے موقع پر امن و ترقی میں پاکستان چین ہمہ موسمی شراکت داری‘‘ (Pakistan-China All-Weather Partnership in Peace and Progress at Platinum Jubilee)کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ خصوصی ایڈیشن پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے شائع کیا گیا ہے۔بدھ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کی چین میں سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے تقریب میں کلیدی مقرر کے طور پر شرکت کی جبکہ چین کے سفارتخانے کے منسٹر قونصلر ژو ہانگ تیان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز، یونیورسٹی آف سرگودھاڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان، فیکلٹی ممبر شعبہ چینی زبان و ادب، نمل اسلام آباد ڈاکٹر صدف جبار اور ایسوسی ایٹ ڈین سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز اور ڈپٹی ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف سائوتھ ایشین سٹڈیز سیچوان یونیورسٹی پروفیسر ہوانگ یون سونگ نے بھی بطور مہمان شرکت کی۔ چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی سفیر معین الحق اور ڈائریکٹر سی پی ایس سی ڈاکٹر طلعت شبیرنے بھی تقریب سے خطاب کیا۔استقبالیہ کلمات میں سفیر معین الحق نے پاکستان چین تعلقات کی نمایاں خصوصیت رکھنے والے غیر معمولی اعتماد، باہمی احترام اور غیر مشروط حمایت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس شراکت داری کے مضبوط عوامی روابط اور اس کے وسیع دائرہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں دفاع، تجارت و سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، گرین ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، صاف توانائی، سول جوہری توانائی، خلاء، صحت، تعلیم، ثقافت اور میڈیا سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے چین کے ترقیاتی تجربے بالخصوص طویل المدتی منصوبہ بندی، جدت، تحقیق و ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر بھی روشنی ڈالی۔سفیر نغمانہ ہاشمی نے پیوٹ کے خصوصی ایڈیشن کو پاکستان چین تعلقات کے ارتقاء اور مستقبل کی سمت کا احاطہ کرنے والی ایک جامع اشاعت قرار دیا۔ انہوں نے تعلقات کو مسلسل مضبوط بنانے اور انہیں گمراہ کن اطلاعات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سٹریٹجک کمیونیکیشن، عوامی سفارت کاری، اچھی حکمرانی اور چین کے ترقیاتی تجربے سے سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دستاویزی فلموں، فلموں، ثقافتی مراکز اور تبادلہ پروگراموں کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی شمولیت، ڈیجیٹل اقدامات اور مشترکہ تحقیق کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ڈاکٹر صدف جبار نے زبان، تعلیم اور ثقافتی تفہیم کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے تھنک ٹینکس کے درمیان مضبوط شراکت داری، چینی مطالعات کے فروغ، مشترکہ ترجمے کے منصوبوں، طلبہ کے تبادلے اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔پروفیسر ہوانگ یون سونگ نے پیوٹ کو پاکستان چین تعلقات پر پالیسی پر مبنی علمی کام میں ایک اہم کاوش قرار دیا۔
انہوں نے سی پیک 2.0 کی جانب منتقلی پر زور دیتے ہوئے گرین جدیدکاری، اعلیٰ قدر کی صنعتی انضمام، تکنیکی جدت اور پیداواری صلاحیت پر زیادہ توجہ دینے کی بات کی۔ انہوں نے صنعتی ترقی، زراعت، موسمیاتی موافقت، صاف توانائی، آبی وسائل اور علاقائی روابط کے شعبوں میں مضبوط علمی تبادلوں، مشترکہ تحقیق اور تعاون پر بھی زور دیا۔چینی سفارتخانے کے منسٹر قونصلر ژو ہانگ تیان نے پیوٹ کے اجراء پر آئی ایس ایس آئی کو مبارکباد دی اور اسے پاکستان چین منفرد دوستی کے بارے میں باہمی تفہیم کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کاوش قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان میں چینی صنعتی تعاون میں اضافے بشمول مقامی پیداوار، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اجاگر کیا۔
انہوں نے صنعتی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں موجود مواقع پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوامی اور تعلیمی تبادلوں، نوجوانوں کی ترقی، گمراہ کن اطلاعات کے تدارک اور خلائی شعبے سمیت دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر طلعت شبیر نے پاکستان چین تعلقات میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک انتہائی قریبی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جس میں سیاسی، سفارتی، اقتصادی، ترقیاتی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعاون شامل ہے۔
اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے پاکستان چین دوستی کی پائیدار نوعیت کا اعادہ کرتے ہوئے گزشتہ 75 برسوں کے دوران قائم ہونے والی مضبوط بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقتصادی، علمی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کے مستقبل کی جانب نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔








