حکومت بلوچستان کا اہم اقدام،تمام ٹیکنیکل اور ووکیشنل ادارے بی-ٹیوٹا کے انتظامی کنٹرول میں دیدئیے

حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (ٹی وی ای ٹی) کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور انتظامی امور کو باہم مربوط بنانے کی غرض سے ایک اہم اور بر وقت اقدام اٹھاتے ہوئے تمام فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم وتربیت کےادارے بی ٹیوٹا کے انتظامی کنٹرول میں دے دیئے۔ اس سلسلے میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، …

کوئٹہ۔ 19 اگست (اے پی پی):حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (ٹی وی ای ٹی) کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور انتظامی امور کو باہم مربوط بنانے کی غرض سے ایک اہم اور بر وقت اقدام اٹھاتے ہوئے تمام فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم وتربیت کےادارے بی ٹیوٹا کے انتظامی کنٹرول میں دے دیئے۔ اس سلسلے میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کا مقصد صوبے بھر کے مختلف تکنیکی اداروں کو ایک ہی بااختیار چھتری تلے لانا ہے۔

محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومتِ بلوچستان نے یہ احکامات بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2012ء اور بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ترمیم شدہ) ایکٹ 2026ء کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے جاری کیے ہیں۔ ان احکامات کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔اس فیصلے کی رو سے صوبے میں کام کرنے والے تمام فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (TVET) کے وہ تمام ادارے جو پہلے مختلف انتظامی محکموں کے تحت الگ الگ فعال تھے، اب ازسرِ نو منظم ہو کر "بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی” (BـTEVTA) کے ریگولیٹری اور آپریشنل کنٹرول میں دے دیے گئے ہیں۔

ان اداروں میں ڈائریکٹوریٹ آف مین پاور ٹریننگ کے زیرِ انتظام تمام مراکزی ادارے، محکمہ صنعت و تجارت کے ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ کے تحت قائم شدہ تربیتی مراکز، نیز محکمہ کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے انتظامی کنٹرول میں چلنے والے تمام پولی ٹیکنیک، مونو ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹس اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مستقبل میں نوٹیفائی ہونے والا کوئی بھی سرکاری TVET ادارہ خود بخود اسی دائرہ کار میں شامل سمجھا جائے گا۔نوٹیفکیشن میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے تمام ٹیکنیکل کالجز، سکولز، پولی ٹیکنکس اور ٹریننگ سینٹرز کی عملی دیکھ بھال (آپریشنل کنٹرول) BـTEVTA ہی کی ذمہ داری ہوگی اور اتھارٹی قانون کے مطابق تفویض کردہ تمام اختیارات و فرائض سرانجام دے گی تاہم اداروں کے انتظامی امور بشمول اسٹیبلشمنٹ کے مسائل، سروس اسٹرکچر اور انسانی وسائل (مین پاور) کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ بلوچستان کے محکمہ محنت و افرادی قوت (لیبر اینڈ مین پاور ڈیپارٹمنٹ) کے سپرد کی گئی ہے

۔اس ری اسٹرکچرنگ کے نتیجے میں سابقہ مربوط اداروں اور اب ختم کر دیے گئے بورڈ (بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن) کے تمام اثاثے، حقوق، ملکیتیں، ریکارڈز، جاری ترقیاتی منصوبے اور مالیاتی واجبات ازخود قانونی قواعد کے مطابق BـTEVTA اور BTEVAB کو منتقل ہو جائیں گے۔ جہاں تک اتھارٹی کے مالیاتی اور معاشی امور کا تعلق ہے، تو ان کی انتظامی نگہداشت اور کنٹرول کا اختیار بھی بالواسطہ طور پر محکمہ محنت و افرادی قوت ہی کے پاس رہے گا۔ اس جامع اصلاحی قدم سے نہ صرف صوبے میں فنی تعلیم کے معیار میں بہتری کی توقع ہے بلکہ تمام تربیتی مراکز کا نظم و ضبط بھی ایک واضح اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت آ سکے گا۔