وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی طویل مدتی توانائی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے توانائی کے شعبے کے تمام حصوں بالخصوص اپاسٹریم، مڈ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے
توانائی کی طلب و رسد میں توازن، مقامی وسائل کا بہتر استعمال اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، علی پرویز ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی طویل مدتی توانائی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے توانائی کے شعبے کے تمام حصوں بالخصوص اپاسٹریم، مڈ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، توانائی کا محفوظ اور پائیدار نظام ملکی معاشی ترقی کی بنیاد ہے اس لیے توانائی کی طلب و رسد میں توازن، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان انرجی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی سربراہی میں توانائی سے متعلق قائم کمیٹی کا ماہانہ بنیاد پراجلاس ہوتا ہےجس میں اس شعبے سے متعلق اہم امور اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کیونکہ محفوظ اور قابلِ اعتماد توانائی کا نظام ملکی معاشی ترقی کی بنیاد ہے،اس شعبے میں پائیداری اور معاشی ترقی کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ توانائی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مربوط اور طویل مدتی منصوبہ بندی انتہائی اہم ہے، حکومت توانائی میں خودکفالت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انرجی پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے پرعزم ہے، اس شعبے میں درآمدی انحصار کم کرنا، مقامی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا اور صارفین کو مسابقتی قیمتوں پر توانائی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی پالیسی میں مزید ہم آہنگی پیدا کرنے اور ملک کے توانائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے،اس شعبے کی طویل المدتی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ ہر ڈویژن اپنے پاؤں پر کھڑا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان بیرونی عوامل کے اثرات کے مقابلے میں کس قدر حساس ہے اس لیے درمیانی مدت کی قومی توانائی پالیسی کی تشکیل میں پٹرولیم کے شعبے کو بھی مؤثر طور پر شامل کرنا ہوگا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے بین الوزارتی پلیٹ فارم کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے جس کی سربراہی وزیراعظم محمد شہباز شریف خود کر رہے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمیٹی کا اجلاس ہر دو ماہ بعد منعقد کیا جائے تاکہ توانائی کی پوری ویلیو چین میں ہونے والی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ کمیٹی میں پٹرولیم، پاور اور فنانس کے وزرا شامل ہیں جو باہمی مشاورت سے توانائی کے شعبے کو پائیدار بنیاد پر آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم ڈویژن ایسا شعبہ نہیں بن سکتا جس پر بجٹ کے اثرات پورے کرنے کے لیے مسلسل بھاری ٹیکسز اور مالی مداخلتیں کی جاتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے تحفظ کے لیے اپ سٹریم ایکسپلوریشن میں سرمایہ کاری کو پالیسی کے تسلسل اور درمیانی مدت کی واضح سمت فراہم کرنا ضروری ہے، کامیاب دریافت کی صورت میں سرمایہ کاروں کو اپنے منافع کو برقرار رکھتے ہوئے اسے دوبارہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور مزید ایکسپلوریشن میں لگانے کے مواقع ملنے چاہئیں۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت دوست ممالک کے تعاون سے تقریباً 20 سال بعد آف شور ایکسپلوریشن کو دوبارہ فعال کر رہی ہے، اگر ایک کنویں پر 100 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہو تو سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی کا تسلسل اور درمیانی مدت کی واضح صورتحال فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپ سٹریم سیکٹر میں آن شور اور آف شور بیسنز میں ایکسپلوریشن کے ساتھ ساتھ سرکلر ڈیٹ اور وراثتی چیلنجز سے نمٹنے پر بھی کام جاری ہے، صارفین کی قیمتوں میں ایک روپیہ بھی اضافہ کیے بغیر سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو تقریباً صفر پر برقرار رکھا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے منصب سنبھالنے سے قبل موجود وراثتی لاگت کی ادائیگی کے لیے حکومت آئی ایم ایف اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس ذمہ داری کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ چند ماہ میں اگلے مشن کی آمد کے بعد اس رقم کی عملی ادائیگی کے طریقہ کار کا فیصلہ کیا جائے گا جس کے بعد مزید ایکسپلوریشن کے لیے سرمایہ کاری متوقع ہے۔مڈسٹریم سیکٹر کے حوالے سے علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ انتہائی غیر یقینی صورتحال میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مذاکرات میں تعاون پر ریفائنریز کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملکی ریفائنریز اس قدر خستہ حال کیوں ہیں اور وہ ڈیپ کنورژن ریفائنریز میں اپ گریڈ کیوں نہیں ہو سکیں، نئی ریفائنری پالیسی اور آپریشنل فلیکسی بلٹی بھی اسی مقصد کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہے۔وزیرِ پٹرولیم نے بتایا کہ ریفائنری پالیسی موجود ہے اور سیکرٹری پٹرولیم تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں، اس حوالے سے دستخط کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آنے والی نسلوں کو موجودہ نسل کی طرح کے توانائی چیلنجز کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گیس سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے ورلڈ بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک گیس کے شعبے کو ان بنڈل کرنے اور اصلاحات کے عمل میں حکومت کی معاونت کر رہا ہے، اس عمل کے تحت انفراسٹرکچر کے کاروبار کو انرجی کے کاروبار سے الگ کرنے، شعبے میں مسابقت بڑھانے، اپ سٹریم سیکٹر کے لیے زیادہ لیکویڈٹی کی حوصلہ افزائی اور نظام میں کارکردگی و آپٹیمائزیشن لانے پر کام کیا جا رہا ہے۔علی پرویز ملک نے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہےجس کے بعد اسے وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا، حکومت رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں بتدریج توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پائیداری کے لیے آگے بڑھے گی







