خلیجی ممالک سے یکم مارچ 2026 تک 21 ہزار 951 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، اسلام آباد میں ’ایجوکیشن سٹی‘ قائم کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
خلیجی ممالک سے یکم مارچ 2026 تک 21 ہزار 951 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، اسلام آباد میں ’ایجوکیشن سٹی‘ قائم کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ یکم مارچ 2026 تک خلیجی ممالک سے مختلف وجوہات اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے سی ڈی اے کے سیکٹر ایریا سے باہر ایک جدید "ایجوکیشن سٹی” قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان اسمبلی کے مختلف سوالات اور ضمنی سوالات کے جوابات دے رہے تھے ۔
رکن قومی اسمبلی حمید حسین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ حکومتی ریکارڈ میں صرف وہ افراد شامل ہوتے ہیں جنہیں متعلقہ ملک کی حکومت باقاعدہ حراست میں لے کر سفارتخانے سے ایمرجنسی ٹریول دستاویزات بنوا کر ڈی پورٹ کرتی ہے، اپنی مرضی یا عام پاسپورٹ پر واپس آنے والے اس فہرست میں شمار نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،قطر، کویت، بحرین اور عمان سمیت تمام خلیجی ممالک سے یکم مارچ 2026 تک کل 21,951 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان افراد کی ڈی پورٹیشن کی وجوہات میں اقامہ و ویزا قوانین کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی رہائش ، منشیات ، مفرور ہونا اور امیگریشن قوانین کی دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
تمام ممالک اور جرائم کی تفصیلی فہرست ایوان کے ریکارڈ میں جمع کرا دی گئی ہے۔شاہدہ بیگم کے ضمنی سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا بنیادی کام سیکٹرز کی ترقی ہے جس میں ایچ-سیکٹرز کو خصوصی طور پر تعلیمی و طبی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں 300 سے زائد نجی و دیگر تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ اور منظم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے سی ڈی اے سیکٹرز سے باہر ایک جامع "ایجوکیشن سٹی” قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ اندرونِ شہر ٹریفک اور رہائشی علاقوں پر دباؤ کم ہو سکے اور اداروں کو جدید سہولیات کے ساتھ وہاں منتقل کیا جا سکے۔رکن اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی کے سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اور تمام وزارتیں پارلیمانی بزنس کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہیں اور اراکینِ پارلیمان کے تمام سوالات کے مکمل، جامع اور مدلل جوابات بروقت فراہم کرنے کے لئے پوری تیاری کے ساتھ ایوان میں حاضر ہوتی ہیں۔








