پاکستان اور مالدیپ کےسفارتی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہائی کمشنر مالدیپ محمد طحہٰ

"پاکستان اور مالدیپ کے دوستانہ سفارتی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، محمد طحہٰ”

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):پاکستان میں مالدیپ کے ہائی کمشنر محمد طحہٰ نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دوستانہ سفارتی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھا کر باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔

وہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں سیکنڈ سیکرٹری اسماعیل مفید کے ہمراہ ایک انٹر ایکٹو سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ہائی کمشنر نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست یا چارٹر فضائی رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر فضائی رابطہ سیاحت، کاروباری سفر اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد کو مالدیپ کو صرف ایک چھوٹی مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر دیکھنا چاہیے جہاں سالانہ 24 لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں۔ انہوں نے سیاحت، ہوٹلنگ، فشریز، ٹونا اور سمندری خوراک، بلیو اکانومی، میرین شعبے، زراعت اور اسلامی سیاحت کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے پاکستانی سرمایہ کاروں کو مالدیپ میں زرعی ترقی اور فوڈ سکیورٹی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور تعاون کی مضبوط بنیاد موجود ہے تاہم دونوں ممالک کی باہمی تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ کی مارکیٹ میں پاکستان کے لیے 600 ملین ڈالر سے زائد کی برآمدی صلاحیت موجود ہے، اس لیے موجودہ کم حجم تجارت کو ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے خوراک و زراعت، فارماسیوٹیکلز، ٹیکسٹائل و گارمنٹس، تعمیراتی سامان، انجینئرنگ مصنوعات، آئی ٹی و ڈیجیٹل سروسز، فشریز، صحت، تعلیم، سیاحت اور ہوٹلنگ کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی، زرعی، تکنیکی اور افرادی قوت کی صلاحیتیں مالدیپ کے سیاحت اور سروسز کے شعبے کے ساتھ بہترین مطابقت رکھتی ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ ٹورازم پیکیجز، ہوٹلنگ، سفری سہولیات اور ٹورازم آپریٹرز کے درمیان روابط کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بلیو اکانومی میں تعاون پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ فشریز، میرین ٹورازم، ساحلی ترقی، میری ٹائم سروسز اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت صرف معاہدوں سے نہیں بڑھتی بلکہ کاروباری افراد کے ایک دوسرے سے ملنے، اعتماد قائم کرنے اور عملی منصوبے شروع کرنے سے فروغ پاتی ہے۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالاسلام شاہ نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک اقوام متحدہ، سارک اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مختلف عالمی و علاقائی فورمز پر تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 9 سے 10 ملین ڈالر کی موجودہ باہمی تجارت دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے اور اس میں کئی گنا اضافے کی گنجائش موجود ہے۔عبدالسلام شاہ نے مالدیپ کی کاروباری برادری کو فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایونٹ نومبر 2026ء، ٹیکسٹائل ایکسپو 2 اپریل 2027ء اور ویمن انٹرپرینیور نیٹ ورک کے 2027ء کے فلیگ شپ ایونٹ میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان تجارتی پلیٹ فارمز کے ذریعے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو براہِ راست بی ٹو بی روابط قائم کرنے، مشترکہ کاروباری مواقع تلاش کرنے اور تجارت کو نئی سطح پر لے جانے کے مواقع میسر آئیں گے۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب جنہوں نے تقریب کی نظامت کی، نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان کاروباری روابط میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مسلسل رابطے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔تقریب میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری اور عمران منہاس، سابق ایگزیکٹو ممبر چوہدری محمد علی، غضنفر لاشاری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹی ڈی اے پی سمیت بڑی تعداد میں کاروباری رہنمائوں اور چیمبر کے اراکین نے شرکت کی۔