پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے اور جامعات کو تحقیق اور علمی معیار کے مراکز میں تبدیل کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت پر ہے، سید یوسف رضا گیلانی

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے اور جامعات کو تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور علمی معیار کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے موثر قیادت، بہتر طرز حکمرانی اور جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام ’’حکمت عملی کی منصوبہ بندی اور …

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے اور جامعات کو تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور علمی معیار کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے موثر قیادت، بہتر طرز حکمرانی اور جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام ’’حکمت عملی کی منصوبہ بندی اور قیادت میں اعلیٰ معیار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج جامعات کی ذمہ داریاں محض علم کی فراہمی تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہیں نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، اخلاقی اقدار، قیادت کی اہلیت اور بدلتی دنیا کے تقاضوں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن بالخصوص نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن کو آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور راولپنڈی خطے سے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام جامعات کی قیادت کو تجربات کے تبادلے، طرز حکمرانی بہتر بنانے اور موثر ادارہ جاتی حکمت عملی وضع کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکمت عملی کی منصوبہ بندی محض انتظامی عمل نہیں بلکہ ادارہ جاتی ترقی اور اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے بنیادی ضرورت ہے، مضبوط جامعات کے لیے واضح وژن، شفاف طرز حکمرانی، وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور جدت، تحقیق اور باہمی تعاون کو فروغ دینے والا ماحول ضروری ہے۔ انہوں نے پروگرام میں خواتین جامعات کی شرکت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خواتین کی تعلیم اور قیادت میں سرمایہ کاری سے خاندان، معاشرے، ادارے اور معیشت مضبوط ہوتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا براہ راست تعلق اس کی جامعات کی مضبوطی سے ہے۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور پالیسی سازی کے مضبوط مراکز میں تبدیل کرنے پر زور دیا تاکہ فارغ التحصیل طلبہ معاشرے اور قومی معیشت میں بامعنی کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے اور پاکستان کے تمام علاقوں کی جامعات سماجی ہم آہنگی، جمہوری اقدار کے فروغ اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ادارہ جاتی قیادت اور حکمت عملی کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام جامعات کے سربراہان کو بین الاقوامی پیش رفت اور قومی ترجیحات کے مطابق موثر حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد دیتے ہیں۔

انہوں نے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اداروں میں اعلیٰ معیار، باہمی تعاون، شمولیت اور جدت کی ثقافت کو فروغ دیں، تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں، کاروباری سرگرمیوں کی معاونت کریں اور طلبہ کو ذمہ دار شہری اور مستقبل کے رہنما بننے کے لیے تیار کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے شرکا اور منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پروگرام میں ہونے والے مباحثے اور تجربات کا تبادلہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی جامعات کی تعمیر کرنی ہے جو صرف ذہنوں کو تعلیم نہ دیں بلکہ کردار، قیادت اور قوم کی خدمت کا جذبہ بھی پیدا کریں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے امن، خوشحالی اور مسلسل ترقی کے لیے دعا کرتے ہوئے تعلیم، ادارہ جاتی استعداد اور قومی ترقی کے فروغ سے متعلق اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔