وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے ملک کے پہلے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (ڈی پی آر) پروگرام کے تحت آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان منصوبے کے معاہدے پر دستخط کے بعد طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے نئی راہ کھول دی ہے۔
آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان معاہدہ عالمی سرمائے تک پاکستان کی رسائی مزید وسیع ہونے کے امکانات ہیں،خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے ملک کے پہلے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (ڈی پی آر) پروگرام کے تحت آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان منصوبے کے معاہدے پر دستخط کے بعد طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے نئی راہ کھول دی ہے۔
جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر 100 ملین ڈالر تک کی فنانسنگ فراہم کی جائے گی جبکہ مزید بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری متحرک کرنے اور دیگر پاکستانی بینکوں کے لیے بھی ایک قابل عمل ماڈل قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک فنانسنگ لین دین تک محدود نہیں بلکہ اس سے پاکستان کے لیے فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانے میں مدد ملے گی۔خرم شہزاد نے کہا کہ یہ پروگرام پیداواری سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کے عالمی کیپیٹل مارکیٹ سے انضمام کو مزید گہرا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے معاہدے کو طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کی فنانسنگ کے لیے مارکیٹ پر مبنی ذریعہ قائم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سرمائے تک پاکستان کی رسائی مزید وسیع ہونے کے امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان کے لیے نئی فنانسنگ، مزید سرمایہ کاری اور مزید گہری مارکیٹس کی راہ ہموار ہوگی۔








