وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں، وہ صحت مند ہیں،ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے ،اپنے دور میں عمران خان شریف برادران سمیت سب کی بیماریوں کا مذاق جلسوں میں اڑاتے تھے جس کی وڈیوز اس ایوان کی سکرینوں پر دکھائی جاسکتی ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں گوہر علی خان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں انہوں …
عمران خان کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ،اس پر سیاست نہ کی جائے خواجہ آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں، وہ صحت مند ہیں،ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے ،اپنے دور میں عمران خان شریف برادران سمیت سب کی بیماریوں کا مذاق جلسوں میں اڑاتے تھے جس کی وڈیوز اس ایوان کی سکرینوں پر دکھائی جاسکتی ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں گوہر علی خان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران کی ہمشیرہ جو ڈاکٹر بھی ہیں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے،وہ ان کی صحت بارے بتا سکتی ہیں،
ان کے ذاتی معالج نے اس ایوان کے ایک معزز رکن کو بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کا ایشو تھا جو رفتہ رفتہ اب ٹھیک ہوچکا ہے،ان کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے،بلڈ پریشر کی میڈیسن وہ لیتے ہیں اور یہ عمر کے ساتھ چلتا رہتا ہے،وہ روزانہ تین گھنٹے ورزش کرتے ہیں،معمول کے مطابق اچھی خوراک لیتے ہیں،ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ میں جب جیل میں تھا تو جناح ہسپتال میں میری سرجری کے وقت ایک سائیکاٹرسٹ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ آپریشن کی وڈیو بھیجنی ہے کہ ان کا آپریشن ہوا ہے یا نہیں۔ ہماری بیماری اور مشکلات کو ابھارا جاتا تھا۔ عمران خان کو کورٹ کے حکم پر ہسپتال لے جایا گیا ہے،
ان کی رپورٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔ان کی صحت کے حوالے سے فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ایک مشکل کام ہے،اس میں آزمائشیں بھی آتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کے پلیٹی لٹس کی کمی کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔ان کی حال ہی میں جنیوا میں دوسرجریز ہوئی ہیں،وہ دل کے امراض اورشوگر کے مریض ہیں،وہ آز مائشوں سے گزرے ،ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا،ان کے پلیٹی لٹس پر یہاں اس ایوان میں آوازے کسے جاتے تھے۔عمران خان کی کئی وڈیوز یہاں دکھا سکتے ہیں جس میں وہ ان کی بیماریوں کا مذاق اڑارہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک اور ایوان کی سالمیت کو ہر وقت چیلنج میں رکھنا حب الوطنی نہیں ہے،ہماری پوری قیادت گرفتار تھی اور ہم یہاں اس ایوان میں آکر کارروائی کا حصہ بنتے تھے،اپنا بزنس نمٹاتے تھے۔ہم نے تب نہیں کہا کہ ہماری قیادت پابند سلاسل ہے تو ہم ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔اس کی بنیاد پر سسٹم کو دائو پر نہ لگایا جائے۔جذبات حق بجانب ہیں تاہم ایسے مسائل حل نہیں ہوتے۔اس ملک میں سیاسی معیار کبھی اعلی نہیں رہے اس لیے تھوڑا برداشت کا حوصلہ پیدا کیاجائے۔







