احسن اقبال کا نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کا دورہ، تعلیمی معیار کی بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کا دورہ کیا اور ادارے کی سرگرمیوں، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کا دورہ کیا اور ادارے کی سرگرمیوں، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہر قوم کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو بہترین علم سے آراستہ کرے اور ان میں پیداواری صلاحیت پیدا کرے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران وزارتِ تعلیم کو نصاب، امتحانی نظام اور اساتذہ کی تربیت میں اصلاحات کے لیے چار اہم منصوبے دیے گئے تھے۔ آج نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کو دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے، یہ وزارتِ منصوبہ بندی کا لگایا ہوا پودا ہے جو آج ایک تناور درخت بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا نصاب اسی وقت مؤثر اور بہترین ہوسکتا ہے جب ہمارے اساتذہ جدید دور کے تقاضوں اور تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ ہوں۔ استاد محض نوکری نہیں بلکہ ایک مشن اور معاشرہ سازی کا ذریعہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو کٹ اینڈ پیسٹ نالج کے کلچر سے نکل کر طلبہ میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔ ہمارا مقصد صرف کتابیں پڑھنے والی نسل تیار کرنا نہیں بلکہ ہمیں کتاب خواں سے صاحبِ کتاب نسل تیار کرنی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ نئی نسل کو اپنی قومی شناخت، تہذیب اور ثقافت سے بھی روشناس کرانا ضروری ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو پاکستان کے بااعتماد سفیر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا سفر کلاس روم سے شواہد، شواہد سے پالیسی اور پالیسی سے دوبارہ بہتر تدریسی عمل تک ہونا چاہیے۔ تحقیق کی اصل اہمیت اسی میں ہے کہ وہ تعلیم کے حقیقی مسائل کی نشاندہی اور ان کے مؤثر حل میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن ایسا مرکز بن سکتا ہے جہاں کلاس روم سے سامنے آنے والے سوالات کا منظم اور سائنسی انداز میں جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کا مقصد صرف تعلیم کے دائرہ کار کو وسعت دینا نہیں بلکہ ایسا انسانی سرمایہ تیار کرنا ہے جو پاکستان کو پیداواری، مسابقتی اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کر سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ اساتذہ کا معیار صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور مستقبل کا بنیادی مسئلہ ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کے قیام کا بنیادی تصور یہی ہے کہ اساتذہ کا معیار بہتر کیے بغیر تعلیم کا معیار بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کا حامل ادارۂ تعلیمِ اساتذہ صرف اپنی عمارت یا کیمپس تک محدود نہیں رہ سکتا، اس کی اصل تجربہ گاہ اسکول اور کلاس روم ہونا چاہیے۔ تدریسی مشق، رہنمائی اور اسکولوں و ادارۂ تعلیمِ اساتذہ کے درمیان شراکت داری پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایسا اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیچر ٹریننگ سینٹر بنانا چاہتے ہیں جو جنوبی ایشیا کا بہترین ادارہ ہو اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لیے رول ماڈل بنے۔

مزید خبریں