وفاقی وزیرا حسن اقبال کا ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے اگست کے اجراء کی تقریب سے خطاب

"معاشی استحکام ہماری منزل نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی جانب سفر کا آغاز ہے، احسن اقبال”

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر ا حسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل معاشی ایڈجسٹمنٹ کے مرحلے سے گزر کر استحکام حاصل کیا ہے، یہ استحکام آسانی سے حاصل نہیں ہوا،معاشی استحکام ہماری منزل نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی جانب سفر کا آغاز ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے اگست کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ عوام کو ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور درپیش چیلنجز سے باقاعدگی سے آگاہ کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت معاشی استحکام کو پائیدار معاشی تبدیلی میں تبدیل کرنا ہماری ترجیح ہے، برآمدات کو معاشی ترقی کا اہم محرک بنا کر روزگار، بہتر آمدن اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے آغاز پر معیشت سے متعلق حوصلہ افزا اشاریے سامنے آئے ہیں،جولائی 2026 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9.2 فیصد رہی جو مئی میں 11.7 فیصد تھی۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ قیمتوں کا دباؤ اپنی بلند ترین سطح عبور کر چکا ہے اور اب کمی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل پرائیس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے مارکیٹ اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بروقت انتظامی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،جولائی 2026 میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے 3.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر رہیں، جو بیرونی شعبے میں معیشت کی مضبوط لچک کا ثبوت ہے، ترسیلات زر نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو بیرون ملک پاکستانیوں کا قومی معیشت پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی پیداوار نے دوبارہ رفتار پکڑ لی ہے، مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اوسطاً 5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط صنعتی شعبے کا مطلب زیادہ ملکی پیداوار، روزگار کے زیادہ مواقع اور برآمدات کے لیے اضافی پیداوار پیدا کرنا ہے،لارج سکیل مینوفکچر کی پیداوار میں بحالی کا عمل وسیع بنیادوں پر جاری ہے، 22 میں سے 16 شعبوں میں مثبت شرح نمو ریکارڈ ہوئی،آٹو موبائلز کے شعبے میں 57.8 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 42.4 فیصد اور برقی آلات میں 14.3 فیصد شرح نمو ریکارڈ ہوئی۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ مالی سال 2026-27 کے آغاز پر بیرونی شعبے نے حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے،جولائی 2026 میں اشیاء کی برآمدات 9.4 فیصد اضافے سے 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جولائی 2025 میں اشیاء کی برآمدات 2.8 ارب ڈالر تھیں جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 3 ارب ڈالر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2026 میں اشیاء اور سروسز کی مجموعی برآمدات 13 فیصد اضافے سے 3.9 ارب ڈالر رہیں، سرجیکل مصنوعات کی برآمدات میں 16.3 فیصد، غذائی اشیاء میں 8 فیصد، لیدر مصنوعات میں 7.8 فیصد اور ٹیکسٹائل میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا ہے ،سروسز کے شعبے بالخصوص آئی ٹی برآمدات پاکستان کی بیرونی آمدن کی صلاحیت کو مسلسل مضبوط کر رہی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ جولائی 2026 میں آئی سی ٹی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے امکانات کی عکاس ہیں،جولائی 2026 میں اشیاء اور سروسز کی درآمدات 13 فیصد اضافے سے 7.3 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ ملکی معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور پیداواری و سرمایہ جاتی اشیاء کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے، جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر رہا جو جولائی 2025 کے 529 ملین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے،عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے نے مسلسل لچک کا مظاہرہ کیا ہے،مالیاتی استحکام حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم ستون ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جولائی 2026 میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 8.4 فیصد اضافے کے ساتھ 820.9 ارب روپے تک پہنچ گئیں،گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر نے 757.4 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ملکی وسائل سے آمدن بڑھانے اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، مضبوط مالیاتی نظم و ضبط کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جو گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت سرکاری ترقیاتی سرمایہ کاری کو مزید مؤثر، مرکوز اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت ترقیاتی وسائل زیادہ معاشی و سماجی اثرات رکھنے والے منصوبوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں،جولائی 2026 میں وزارت منصوبہ بندی نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 211.327 ارب روپے، یعنی 21.1 فیصد فنڈز جاری کیے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے بروقت مالی معاونت یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی وسائل کا استعمال واضح نتائج، زیادہ معاشی منافع اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔