"صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حکومت نے عدالتی حکم پر مکمل اور شفاف عمل درآمد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرایا، عطاء اللہ تارڑ”
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تحریک انصاف نے خود کی، صحت کے معاملے پر سیاست اور شفاء ہسپتال کے باہر مجمع عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود تحریک انصاف نے سیاسی بیان بازی اور شفاء ہسپتال کے باہر لوگوں کو اکٹھا کر کے عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کی، حکومت نے عدالتی حکم پر مکمل اور شفاف عمل درآمد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹروں کی موجودگی میں طبی معائنہ کرایا، ابتدائی طبی رپورٹس کے مطابق ان کی صحت تسلی بخش ہے۔
ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پر انتظامیہ نے مکمل عمل درآمد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے اس معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کر کے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا اپوزیشن میں بھی یہی موقف تھا اور آج حکومت میں بھی یہی موقف ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس کے رہنماؤں کی جانب سے سیاسی مخالفین کی صحت کے بارے میں بیان بازی اور تضحیک کی جاتی رہی، اس وقت بھی ہم نے واضح کیا تھا کہ صحت کا معاملہ کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے اور اس پر سیاست سے گریز کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے موقف میں اس وقت بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی، آج بھی ہمارا یہی مؤقف ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تو وہ خود سیاسی مخالفین کی صحت کے بارے میں طنز اور تضحیک آمیز گفتگو کرتے تھے تاہم آج جب ان کی اپنی صحت کا معاملہ آیا تو حکومت کی جانب سے کوئی توہین آمیز یا طنزیہ بیان نہیں دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکومت آئین اور قانون کی روشنی میں عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کی جس میں بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ کیا نجی ہسپتال میں علاج کی یہ سہولت ہر قیدی کو حاصل ہے اور کیا آئین و قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے؟ ۔انہوں نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست کا مقصد کسی استثنا یا خصوصی رعایت کا تاثر پیدا ہونے سے گریز اور قانونی پوزیشن کو واضح کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عملدرآمد کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کا شفاف طریقے سے طبی معائنہ کرایا گیا، طبی معائنے کے وقت بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ اور شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے مناسب انتظامات کئے گئے اور عدالت کے حکم کی تمام ضروریات پوری کی گئیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس معاملے پر انہوں نے دو مرتبہ ٹویٹس کے ذریعے واضح کیا کہ عدالتی ہدایات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرایا گیا، ان کی ہمشیرہ اور شفاء انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز موجود تھے اور عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس پورے معاملے پر کوئی سیاسی بیان نہیں دیا بلکہ حقائق قوم کے سامنے رکھے اور عدالتی حکم کی روح کے مطابق تمام اقدامات شفاف انداز میں کئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کس نے کی ہے؟ عدالت نے واضح طور پر ہدایت کی تھی کہ اس معاملے پر سیاست اور سیاسی بیان بازی نہیں ہوگی، اس کے باوجود شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر لوگوں کو ٹولیوں کی صورت میں جمع کیا گیا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنائی گئیں، رکاوٹیں پیدا کی گئیں اور انتظامیہ کے لئے سکیورٹی صورتحال پیدا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف واقعی بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے مخلص تھی تو ہسپتال کے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی گئیں؟ عدالت نے سیاست اور بیان بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود سیاسی بیانات دیئے گئے اور مجمع اکٹھا کرکے انتظامیہ کے لئے مشکلات پیدا کی گئیں ، سیاسی بیانات دیئے، پریس کانفرنسیں کیں، تحریک انصاف نے عدالتی احکامات کی توہین کی، بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور پارٹی توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے اپنے ہی سربراہ کے علاج کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی اور توہین عدالت کس نے کی، وہ قوم کے سامنے ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے حوالے سے کہا کہ دونوں نمائندہ تنظیموں کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ بعض وکلا اپنی ذاتی حیثیت میں سیاسی بیانات دے رہے ہیں اور بارز کو سیاسی معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بار کونسلز نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی ایجنڈے کے لئے وکلا یا بارز کو استعمال نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم واضح ہے اور اس پر عملدرآمد بھی مکمل طور پر کیا گیا ہے، اس معاملے میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے باعث بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں عدالت کے حکم کے مطابق شفاء انٹرنیشنل کے ماہر امراض چشم بھی موجود تھے اور طبی معائنہ مکمل شفاف طریقے سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کا علاج نہیں روکا، انہیں جب بھی طبی سہولت کی ضرورت ہوگی وہ فراہم کی جاتی رہے گی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے نظرثانی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی سفارش کے بغیر یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ علاج کس ہسپتال میں یا کن مخصوص ڈاکٹرز سے کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مخصوص نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دی جاتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہی سہولت دیگر تمام قیدیوں کو بھی حاصل ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز کی حالیہ طبی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت تسلی بخش ہے جبکہ آنکھوں کی بینائی بھی 6/6 ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق وہ ہشاش بشاش ہیں اور کسی سنگین بیماری کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب بیماری کی کوئی سنگینی سامنے نہیں آئی تو اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، یہ ایک قانونی اور صحت کا معاملہ ہے، صحت کا معاملہ ڈاکٹرز کے دائرہ کار میں ہے اور قانونی معاملے کی قانونی حیثیت الگ سے دیکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک دن بھی علاج نہیں روکا، علاج پہلے بھی جاری رہا ہے، اب بھی جاری ہے اور آئندہ بھی ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، یہ قانونی اور صحت کا معاملہ ہے اسے اسی دائرہ میں رہنے دیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سیاست کر کے توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے، اس پر سیاست سے گریز کریں اسی میں ان کی بہتری ہے۔








