خیبرپختونخوا کے سیاسی اور سماجی حلقوں سمیت سابق سفارتکاروں کابلوچستان کے معاملے پر وزیراعظم کی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کا بھرپور خیرمقدم

"خیبرپختونخوا کے سیاسی و سماجی حلقوں اور سابق سفارتکاروں نے بلوچستان کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کا بھرپور خیرمقدم کیا۔”

پشاور۔ 22 اگست (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے سیاسی اور سماجی حلقوں سمیت سابق سفارتکاروں کی جانب سے وزیراعظم محمد شہبازشریف کی بلوچستان کے معاملے پر گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔

سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، سابق سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس تجویز کو دیرینہ گلے شکوے دور کرنے، مصالحت کو فروغ دینے اور صوبے میں ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا ایک موقع قرار دیا ہے۔ یہ تجویز ان لوگوں میں خاص طور پر بہت زیادہ مقبول ہوئی ہے جن کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے پیچیدہ چیلنجز صرف تصادم کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ معنی خیز سیاسی بات چیت معاشی مواقع اور منصفانہ ترقی کے ساتھ مل کر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے اور ناراض آوازوں کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے میں مدد کر سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے بات چیت کو بلوچستان کے عوام کے جائز اور حقیقی مسائل حل کرنے کا سب سے زیادہ قابل عمل حل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ زبردست معاشی صلاحیت رکھتا ہے اور منصفانہ ترقی معاشی سرگرمیوں اور خوشحالی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے اور یہ وسیع معدنی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ قیمتی پتھروں، کان کنی اور قدرتی وسائل میں ذمہ دارانہ سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور صوبے کی نوجوان آبادی کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہت سے نوجوانوں کے لیے سوال صرف وسائل کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ آیا وسائل روزگار، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور بہتر معیار زندگی میں تبدیل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ ڈاکٹر ہلالی نے صوبے کے وسیع جغرافیائی رقبے اور آبادی کے مراکز کے درمیان طویل فاصلے کی طرف بھی اشارہ کیا جو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرنے والی حکومتوں کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والی برادریاں بھی قومی ترقی سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ گرینڈ ڈائیلاگ کو تحفظات کو حل کرنے اور مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن صوبائی اسمبلی طارق اعوان نے بھی وزیراعظم کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاسی شمولیت کے ذریعے صوبے کے چیلنجز کو حل کرنے کی جانب ایک قابل تعریف قدم قرار دیا۔ انہوں نے مسلسل وفاقی حکومتوں کی طرف سے شروع کئے گئے متعدد ترقیاتی اقدامات کو اجاگر کیا جن میں اہم سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ، گوادر سے متعلق منصوبے اور کسانوں پر توانائی کا بوجھ کم کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے پروگرام شامل ہیں۔کراچی-چمن N-25 منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس میگا روڈ پروجیکٹ کےلیے 415 ارب روپے مختص کیے ہیں جس کی تکمیل سے کنیکٹیویٹی میں بہتری اور پورے خطے میں تجارت و معاشی سرگرمیوں کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔ طارق اعوان نے کہا کہ کنیکٹیویٹی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بہتر سڑکیں دور دراز کی برادریوں کو منڈیوں، سکولوں، ہسپتالوں اور روزگار کے مواقع سے جوڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے گوادر پورٹ کو بھی ایک اہم قومی منصوبہ قرار دیا اور اس کی ڈیپ ڈرافٹ صلاحیت اور سٹریٹجک اہمیت کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وفاقی ترقیاتی سکیموں میں بلوچستان کا حصہ اس کی آبادی پر مبنی حصے سے زیادہ سطح پر برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے اس پالیسی کو احسان کے بجائے قومی یکجہتی کا اظہار قرار دیا۔ انہوں نے 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے مباحثوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تمام چاروں صوبوں نے بلوچستان کی مالی مشکلات اور ترقیاتی ضروریات کے اعتراف میں وفاق سے اس کا حصہ بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ رکن صوبائی اسمبلی نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے وفاقی حکومت کے سولرائزیشن پروگرام کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 20,000 سے 22,000 ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریبا 70 ارب روپے کی ضرورت تھی، جس میں وفاقی حکومت 40 ارب روپے کا حصہ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 20,000 سولر ٹیوب ویل پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں جو کسانوں کو توانائی کے بھاری اخراجات سے ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے فوائد صرف اسی وقت برقرار رکھے جا سکتے ہیں جب تمام فریقین کی طرف سے ان کی سیکورٹی یقینی بنائی جائے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سابق سفیر منظور الحق نے بھی مجوزہ گرینڈ ڈائیلاگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحیح سمت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غربت، دہشت گردی، بے روزگاری اور ناخواندگی سے فوری ترجیحات کے طور پر نمٹا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنائے بغیر پائیدار امن مشکل رہے گا۔ انہوں نے مزید اتحاد اور رواداری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کو ایک ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا سے آنے والے یہ ردعمل اس وسیع تر نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے معاملے کے سیاسی اور سماجی و معاشی دونوں پہلو ہیں۔ اگرچہ سیکورٹی ایک بڑا تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی شکایتوں پر بھی بہتر تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور معاشی مواقع تک رسائی کے ذریعے مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کی ڈائیلاگ کی تجویز کو ناراض عناصر اور دیگر فریقین کی طرف سے سیاسی دھارے میں واپس آنے کے لیے ایک سنہری موقع کے طور پر لیا جائے گا۔ ماہرین نے کہا کہ معاشی ترقی اور قومی اتحاد کا حمایت یافتہ ایک حقیقی اور جامع سیاسی عمل، بلوچستان کی وسیع صلاحیت کو اس کے لوگوں کے لیے مواقع میں بدلنے اور پاکستان کی مستقبل کی معاشی نمو میں صوبے کے کردار کو مضبوط بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔