پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان صوبے میں ریلوے نظام کی بحالی کے لیے فریم ورک معاہدے پر دستخط

پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومتِ کے درمیان صوبے میں ریلوے نظام کی بحالی، جدید کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ یہ فریم ورک معاہدہ وزیراعظم پاکستان کے وژن اور رہنمائی کے تحت طے پایا ہے، جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان …

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):پاکستان ریلوے اور خیبر پختونخوا حکومتِ کے درمیان صوبے میں ریلوے نظام کی بحالی، جدید کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ یہ فریم ورک معاہدہ وزیراعظم پاکستان کے وژن اور رہنمائی کے تحت طے پایا ہے، جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کر کے ریلوے کے نظام کو محفوظ، موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 240 کلومیٹر طویل مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جن میں پشاور–نوشہرہ–جہانگیرہ (62 کلومیٹر)، نوشہرہ–مردان–درگئی (65 کلومیٹر)، نوشہرہ–مردان–چارسدہ (51 کلومیٹر)، نصیرپور (چمکنی) سے جمرود (30 کلومیٹر) اور جمرود سے لنڈی کوتل سفاری ریلوے روٹ (32 کلومیٹر) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے سٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کی جائے گی جہاں مسافر سہولیات، صفائی اور سکیورٹی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

باہمی مشاورت سے دیگر روٹس، نئی الائنمنٹس اور فنڈنگ کے متبادل ذرائع پر بھی کام کیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق کوہاٹ سے براستہ تھل خرلاچی تک تقریباً 192 کلومیٹر طویل نئی سٹریٹجک ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ خرلاچی ریلوے رابطہ کے تحت پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مابین علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور آمدورفت کے نئے مواقع پیدا کرے گا جس سے پاکستان خطے کا اہم تجارتی مرکز بنے گا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے ریلوے سیفٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرح جس نے 177 بغیر پھاٹک کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے 9.7 ارب روپے مختص کیے ہیں،خیبر پختونخوا بھی صوبے میں موجود 81 غیر محفوظ کراسنگز کو محفوظ اور باقاعدہ بنانے میں تعاون کرے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں پہلی بار وفاق اور چاروں صوبے عملی شراکت داری کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر پر کام کر رہے ہیں۔

ریلوے صرف سفری ذریعہ نہیں بلکہ رنگ و نسل اور صوبائیت سے بالاتر قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کا مشترکہ تعاون آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور مربوط ریلوے نیٹ ورک کی بنیاد رکھے گا۔

 

مزید خبریں