سائنس دان، ریاضی دان، فلسفی اور سیاستدان علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی برسی جمعرات 27 اگست کو منائی گئی

سائنس دان، ریاضی دان، فلسفی اور سیاستدان علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی برسی جمعرات 27 اگست کو منائی گئی۔

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):سائنس دان، ریاضی دان، فلسفی اور سیاستدان علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی برسی جمعرات 27 اگست کو منائی گئی۔

عنایت اللہ خاں مشرقی 25 اگست 1888 امرتسر میں پیدا ہوئے ۔انھوں نے 18سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی اول پوزیشن میں پاس کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ بعد ازاں انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیک وقت چار ٹرائی پوز آنرز رینگلر سکالر، بیچلر سکالر، فائونڈیشن سکالر اورمکینیکل انجینئرنگ میں اعلیٰ پوزیشن مع وظائف حاصل کیے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے برملا اعتراف کیا کہ یورپی تاریخ میں ایسا ذہین طالب علم پیدا نہیں ہوا۔ ان کا یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی نے دنیا کی قوموں کو اجتماعی موت و حیات کے متعلق پیغام اخیر اور تسخیر کائنات کا پروگرام اپنی شہرہ آفاق کتاب”تذکرہ“ کے ذریعے دیا۔ انھوں نے مصر میں مسئلہ خلافت پر عالم اسلام کی عالم آراء ہستیوں کی کانفرنس کی صدارت کے موقع پر پُر مغز خطاب (خطابِ مصر 1926ء) کیا تو ان ہستیوں اور جامعہ ازہر مصر نے متفقہ طور پر انہیں ”علامہ مشرقی“ کا خطاب دے دیا۔ انھوں نے 1931ء میں خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔

علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی عالم اسلام کے پہلے مسلم سائنس دان تھے جنھوں نے 1952 میں دنیا کے 20 ہزار سائنسدانوں کو ”انسانی مسئلہ“ کے عنوان سے خط لکھ کر دنیاوی ترقی کو بے جان مشینوں کے چنگل سے نکال کر کائنات کو مسخر کرنے، انسانی زندگی اور اس کی روح کو کنٹرول کرنے اور دیگر کروں میں زندگی کی موجودگی کے آثار کے راز از روئے قرآن افشاں کئے۔ انہوں نے اپنے حسابی اندازوں سے ہندوستان میں 300 سال قبل تعمیر کی جانی مساجد کے قبلے غلط ثابت کرتے ہوئے قبلہ کا صحیح رخ معلوم کرنے کا فارمولا پیش کیا۔علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی نے 1902میں نوبل انعام، 1919 میں کابل کی سفارت، 4 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اورسرکے خطاب کی پیشکش، 1936 میں ہندوستان کی ریاست کی وزارت عظمیٰ اور انگریز کی جانب سے دیگر پُر کشش پیش کشوں اورمراعات کو ٹھکرا کر اپنی خودداری ثابت کی۔

انہوں نے اپنی 36 دیہاتوں پر مشتمل وراثتی زمینوں کو اپنے کسانوں میں تقسیم کرتے ہوئے ہندوستان میں باقی ماندہ آبائی گھروں اور زمینوں کے کلیم سے دستبرداری اختیار کر کے میدانِ سیاست میں ایک نئی بے مثال اور لازوال روایت کی بنیاد رکھی کہ سیاست در حقیقت خدمت خلق اور عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی 33 سالہ سیاسی جدوجہد میں 18 سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔انہوں نے شاہانہ زندگی ترک کر کے مجاہدانہ زندگی اپنا کر تا حیات اے سی گاڑی، بجلی کے پنکھوں کا استعمال نہ اور اپنے دوروں کے دوران اپنے کھانے پینے کے اخراجات خود سے برداشت کر کے قوم سے کچھ نہ لینے کی اپنی ادنیٰ سی خواہش سے بھی بے نیازی ثابت کر دی۔علامہ مشرقی بلند پایہ انشاپرداز، فلسفی اور مورخ بھی تھے۔

ان کی مشہور تصانیف میں تذکرہ، خریطہ، اشارات قول فیصل، مولوی کا غلط مذہب، حدیث القران، تین شعری مجموعے، حریم غیب، دہ الباب اور ارمغان حکیم شامل ہیں۔ علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی 27 اگست1963کو لاہورمیں وفات پا گئے۔ان کی نماز جنازہ میں دس لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔ علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کی اپنی زرخرید زمین ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور میں ہو ئی۔ انہوں نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ میری قبر پر ایک گھنٹہ گھر تعمیر کر کے اس پر تحریر کیا جائے کہ ’’جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی تباہ ہو جاتی ہے“۔ علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی، سائنسی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

مزید خبریں