ملک میں مالیاتی سہولتوں کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے ،مشیر خزانہ خرم شہزاد

وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ ملک میں مالیاتی سہولتوں کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے اور گھروں کی تعمیر، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، الیکٹرک گاڑیوں اور برآمدات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ ملک میں مالیاتی سہولتوں کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے اور گھروں کی تعمیر، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، الیکٹرک گاڑیوں اور برآمدات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ جامع مالیاتی سہولتوں تک رسائی کے حوالے سے جاری تازہ پیش رفت کے مطابق جون 2026ء سے مختلف اہم شعبوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد، کسانوں اور کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام سے جوڑنا اور انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ اپنا گھر ہائوسنگ فنانس پروگرام کے تحت قرضوں کی منظوری میں 84 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ منظور شدہ مالی معاونت کا حجم تقریبا دوگنا ہو کر 280 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ہائوسنگ قرضوں کی فراہمی میں بھی 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے زیادہ خاندانوں کو اپنے گھروں کی تعمیر یا خریداری کے لیے رسمی مالیاتی سہولتوں تک رسائی حاصل ہوئی۔زرعی شعبے میں تقریبا ایک لاکھ 15 ہزار نئے قرض لینے والوں کو مالی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ زرخیزای زرعی فنانسنگ پروگرام کے تحت قرضوں کی منظوری میں 12 فیصد اور قرضوں کی فراہمی میں 13 فیصد اضافہ ہوا جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار اور زرعی سرگرمیوں میں توسیع کے لیے مالی وسائل میسر آئے۔اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے تک رسمی مالیاتی رسائی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ تقریبا 3 لاکھ 30 ہزار کاروباری ادارے اس وقت مجموعی طور پر 1.05 کھرب روپے کی رسمی مالی سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ نئے کریڈٹ سکورنگ ماڈلز متعارف کرانے سے ایسے کاروباروں کے لیے بھی قرضوں تک رسائی آسان ہو رہی ہے جنہیں ماضی میں بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔برآمدی شعبے میں بھی مالی معاونت کو ورکنگ کیپیٹل، نئی سرمایہ کاری، ری فنانسنگ اور برآمدی مراعات سے زیادہ موثر انداز میں منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔دوسری جانب گرین فنانس کے شعبے میں بھی پیش رفت تیز ہوئی ہے۔ پی اے وی ای کے تحت منظوریوں میں 24 فیصد جبکہ مالی وسائل کی فراہمی میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی ترسیل بھی تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے جو ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور پائیدار سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی ہوئی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ان اقدامات کا بنیادی مقصد معیشت میں ایک مثبت اور مضبوط سلسلہ پیدا کرنا ہے جس کے تحت مالیاتی سہولتوں تک رسائی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوں ، سرمایہ کاری سے پیداوار بڑھے، پیداوار سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، روزگار اور پیداوار سے برآمدات میں اضافہ ہو اور بالآخر ملک پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔انہوں نے کہاکہ یہ پیش رفت محض مالیاتی شمولیت تک محدود نہیں بلکہ اسے معاشی شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا، کاروباری اداروں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا اور پاکستان کو ایک مضبوط، مسابقتی اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔